@nimi22432: یہ سوال محض ایک فکری پہلو ہی نہیں بلکہ ہماری روح کا ایک گہرا مرثیہ اور ضمیر کا جگانے والا پیغام ہے۔ ہم اکثر اپنے انجام کی خوبصورتی کے لیے تو دعائیں مانگتے ہیں، مگر اس راستے کی خوبصورتی کو بھول جاتے ہیں جو ہمیں اس انجام تک لے جاتا ہے۔ ہماری تمنا تو یہ ہوتی ہے کہ جب زندگی کا آخری چراغ بجھنے لگے تو زبان پر کلمۂ حق اور دل میں نورِ ایمان ہو، لیکن حسرت کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی جیتی جاگتی زندگی کو دنیا کی ناپائیدار طلب، غفلت اور نفس کی پیروی میں نذر کر دیا ہے۔ ایمان کوئی ایسا لباس نہیں جسے انسان صرف سفرِ آخرت کے وقت زیبِ تن کر لے، بلکہ یہ تو روح کی وہ سانس ہے جو زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی رضا اور مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت سے حاصل ہوتی ہے۔ جب تک ہمارے دن اور رات، ہماری سوچیں اور رویے، اور ہمارا باطن عشقِ رسول ﷺ اور اطاعتِ الٰہی کے رنگ میں نہیں ڈھلتے، تب تک ایمان کی کامل حلاوت میسر نہیں آ سکتی۔ سچا عاشق اور مؤمن وہ ہے جو نہ صرف ایمان پر مرنے کی آرزو رکھتا ہے، بلکہ اپنے ہر دن اور ہر عمل کو ایمان کی روشنی میں ڈھال کر زندہ رہنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے—کیونکہ جس کی زندگی یادِ خدا اور اتباعِ مصطفیٰ ﷺ میں گزرے، اس کی موت پھر خوف نہیں بلکہ دیدار کی اک حسین منزل بن جاتی ہے۔ طَابَ رُوحُ مُحَمَّدٍ ﷺ
"کیونکہ جس کی زندگی یادِ خدا اور اتباعِ مصطفیٰ ﷺ میں گزرے، اس کی موت پھر خوف نہیں بلکہ دیدار کی اک حسین منزل بن جاتی ہے۔" اتباع خدا اور محمد عربی انسان کے مرنے کا انتظار نہیں کرتی صاحب ۔ اسی دنیا میں جیتے جا گتے اپنے محب کو دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہوتا ہے ۔ اور جب انسان کا آخری وقت ہوتا ہے تو خود اپنے محبوب بندہ کا جنازہ پڑھا کر ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔
2026-10-24 03:55:22
1
Kiranfatima :
سبحان اللّٰہ بیشک اللّٰہ کریم دنیا میں ایمان کامل ایمان سے زندہ رکھے اور موت کے وقت اور موت کے بعد بھی ایمان پہ ہی استقامت نصیب فرمائے آمین آمین آمین یا ربّالعٰلمین 🤲😭🙏