@allamaiqqbal: دل بانگِ درا عرش کا ہے، کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر کس کی منزل ہے الہٰی ! مرا کاشانہَ دل معانی: عرش: تخت، مراد آسمان سے بھی اوپر نور کی دنیا ۔ دھوکا: شک ۔ کاشانہ: گھر، آشیانہ، محل ۔ مطلب: اس شعر میں اقبال عالم حیرت میں کہتے ہیں کہ کبھی تو دل پر عرش کا دھوکا ہوتا ہے اور کبھی یہ کعبہ کے مانند لگتا ہے ۔ دوسرے مصرع میں وہ رب ذوالجلال سے استفسار کرتے ہیں کہ تو ہی مجھ پر یہ راز ظاہر کر دے کہ میرا دل آخر کس فرد کی آماجگاہ ہے اس شعر سے باسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شاعر نے یہ اشارہ ذات خداوندی کی جانب کیا ہے کہ وہی انسان کے دل میں مقیم ہوتا ہے ۔ اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا دل کسی اور کا دیوانہ، میں دیوانہَ دل معانی: سودا: دیوانگی، عشق کی مستی ۔ دیوانہ: مراد عاشق ۔ مطلب: اقبال کے اس شعر میں تغزل پوری انتہا پر پہنچا ہوا ہے ۔ فرماتے ہیں دل اور میں عملی سطح پر دونوں ہی مجنون اور سودائی ہیں تا ہم فرق اتنا ہی ہے کہ یہ دل تو کسی اور کا دیوانہ ہے جب کہ میں دل پر فریفتہ ہوں ۔ مقصد یہ ہے کہ میرا دل کائنات کو پیدا کرنے والے کے عشق میں سرشار ہے لہذا اس پر میرا فدا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ عشق کا یہ تعلق با الواسطہ ہے ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry