حسین پیر کی محفل میں دیوانے نہیں آتے
جو شمعیں بجھ چکی ہیں ان پہ پروانے نہیں آتے
سر محفل کبھی چپل وہ لہرانے نہیں آتے
رقیبوں کے سروں پر پھول برسانے نہیں آتے
بلندی عشق کامل اور پستی ہے ہوس ناکی
جہاں اندھے پہنچتے ہیں وہاں کانے نہیں آتے
تمہاری حرکتوں کا شیخ جی دنیا میں چرچا ہے
حقیقت جانتے ہیں ہم کو افسانے نہیں آتے
الٰہی مسکن بوم خوش الحاں اب کہاں ہوگا
نظر دنیا کے نقشہ میں بھی ویرانے نہیں آتے
مہاسے اور چیچک کی سجاوٹ ہے وہ چہرہ پر
کہ وہ اب مفت بھی تصویر کھینچوانے نہیں آتے
وہ حاذق ڈاکٹر بھی ہیں بہ یک چشمی کے باعث سے
مریض اس کو کبھی بھولے سے دکھلانے نہیں آتے
عطا لکھنوی
2026-10-23 14:52:23
0
🎖️ zarish Iadu🎖️ :
2026-10-24 13:18:58
0
To see more videos from user @killernoor47, please go to the Tikwm
homepage.