@deals.and.daisies: OMG these are possibly the most genius invention I’ve ever seen. Life changing fr @SHAPELLX #shapewear #fleecelinedtights #fleecetights #curvyfashion #tiktokshopblackfriday

Kenzie
Kenzie
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 24 October 2026 22:22:20 GMT
51254
531
18
13

Music

Download

Comments

realz17
RealZ1 :
Where is the dress from?
2026-10-25 18:11:02
0
alyzzard13
Alyzzard :
I need the WHOLE outfit!!
2026-10-25 14:04:13
16
bellathecocerpoo
Big Sister Bella ❤️❤️ :
How do you know sizes
2026-10-25 18:35:39
0
valeriaaalopez06
vale🌷 :
What color did you get?!
2026-10-25 05:30:51
0
chelseakathryn7
Chelsea :
But where is the dress and shirt from?!
2026-10-25 05:59:13
12
bebeleboop
Bebe :
Just ordered 💃🏻💃🏻
2026-10-25 05:36:42
0
cristalprostyler
Cristal Rodriguez :
I love the dress and the topper that goes on the dress
2026-10-25 03:17:22
1
xo.meli3
Meli :
Let me know if she responds
2026-10-25 15:06:49
0
queenb696969
B :
provide the whole outfit details (pretty please)
2026-10-25 16:50:35
0
amaris_world23
Amaris_World23 :
What color and size are you wearing?
2026-10-25 15:58:39
0
kayleighstonee
Kayleigh Stone :
Where did you get the dress??
2026-10-25 14:55:46
0
davy1888
davy :
lovely tights
2026-10-25 10:39:40
0
bloggingwithblair
bloggingwithblair :
Ahhhh about to purchase! 😍 I need the dress and sweater too!
2026-10-25 14:36:08
0
jaraguz
𝓙𝓮𝓷𝓷𝔂🌙 :
what color did you get
2026-10-25 12:39:13
0
valeriaaalopez06
vale🌷 :
Where is your cardigan from?!
2026-10-25 05:29:32
0
mystique5453
Mystique :
Are you wearing a bra also? Like under it or does it do a good job on its own?
2026-10-25 14:21:50
0
To see more videos from user @deals.and.daisies, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#peshawar #ladyreadinghospital_peshawar #kpk #fyp #viralvideo  Founder of lady reading hospital  Full name: Alice Edith Isaacs گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔
#peshawar #ladyreadinghospital_peshawar #kpk #fyp #viralvideo Founder of lady reading hospital Full name: Alice Edith Isaacs گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔

About