@meemm045: Wait for the end! 🤣 Which one is your favorite? Drop a follow for daily laughs! 🐾 #funnyanimals #petmemes #PetsOfTikTok #viralpets #fyp

GG88HQ•COM
GG88HQ•COM
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 25 October 2026 03:33:06 GMT
292
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @meemm045, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا؟ اور ایک روایت میں قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں کے بارے میں بھی سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج پاکستان میں لاکھوں لوگ مزارات پر چادریں چڑھاتے ہیں، دھاگے باندھتے ہیں اور اپنی حاجتیں پوری ہونے کی امید میں مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں۔ تو کیا یہ واقعی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں؟ اور اگر رسول اللہ ﷺ نے قبروں کے معاملے میں اتنی سخت تنبیہ فرمائی تھی، تو پھر یہ رسومات ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہو گئیں؟ صحیح بخاری کا واقعہ دیکھیے۔ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کے ایک گرجا گھر اور اس کی تصویروں کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں کوئی نیک شخص فوت ہوتا تو وہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا کر تصویریں لگا دیتے۔ ایسے لوگ قیامت میں بدترین مخلوق ہوں گے۔ صحیح بخاری، حدیث 427۔ صحیح مسلم میں ہے کہ وفات سے پانچ دن پہلے آپ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بناتے تھے۔ خبردار! تم ایسا نہ کرنا، میں تمہیں منع کرتا ہوں۔ صحیح مسلم، حدیث 532۔ آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ پر بھی لعنت فرمائی، کیونکہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا۔ صحیح بخاری، حدیث 435۔ جامع ترمذی، حدیث 320 میں قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، وہاں مسجد بنانے اور چراغ جلانے والوں کے بارے میں سخت وعید منقول ہے۔ تاہم اس کی سند اور خواتین کی زیارت کے حکم میں اختلاف ہے۔ تو پھر مزارات پر چادریں، دھاگے اور منتوں کی رسومات کہاں سے آئیں؟ برصغیر میں صدیوں کے دوران مقامی ثقافت، مذہبی اور صوفی روایات باہم ملتی رہیں۔ یوں رسمیں عوام میں رائج ہو گئیں۔ سب کو ہندو مذہب سے منسوب کرنا درست نہیں۔ لیکن کیا اسلام نے قبروں کی زیارت ہی منع کر دی؟ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔ صحیح مسلم، حدیث 976۔ غور کیجیے! قبرستان جانے کا مقصد موت اور آخرت کو یاد کرنا ہے، نہ کہ دھاگوں اور چادروں سے اپنی خواہشیں پوری ہونے کی امید باندھنا۔ کسی مرحوم کے لیے دعا کرنا الگ عمل ہے، مگر قبر کو عبادت کا مرکز بنانا یا کسی رسم کو قسمت بدلنے کا ذریعہ سمجھنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ فوت شدہ بزرگ کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگنے پر بھی علماء کی مختلف آرا ہیں، لیکن اس اختلاف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دھاگے باندھنا یا چادریں چڑھانا دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ سوچیے، کوئی ماں بیمار بچے کی صحت کے لیے دھاگا باندھتی ہے، کوئی نوجوان روزگار کی امید میں چادر چڑھاتا ہے، اور کوئی غم زدہ شخص سمجھتا ہے کہ اس رسم کے بغیر دعا قبول نہیں ہوگی۔ ان کی تکلیف سچی ہے، مگر کیا اللہ تک فریاد پہنچانے کے لیے ان چیزوں کی ضرورت ہے؟ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ سورۃ البقرہ، آیت 186۔ اگلی بار کسی مزار پر جائیں تو سوچیے: کیا میں یہاں موت اور آخرت کو یاد کرنے آیا ہوں، یا ایسی رسموں سے امید لگائے بیٹھا ہوں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دعا کی قبولیت کی شرط نہیں بنایا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ سورۃ البقرہ، آیت 186۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral
کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا؟ اور ایک روایت میں قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں کے بارے میں بھی سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج پاکستان میں لاکھوں لوگ مزارات پر چادریں چڑھاتے ہیں، دھاگے باندھتے ہیں اور اپنی حاجتیں پوری ہونے کی امید میں مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں۔ تو کیا یہ واقعی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں؟ اور اگر رسول اللہ ﷺ نے قبروں کے معاملے میں اتنی سخت تنبیہ فرمائی تھی، تو پھر یہ رسومات ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہو گئیں؟ صحیح بخاری کا واقعہ دیکھیے۔ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کے ایک گرجا گھر اور اس کی تصویروں کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں کوئی نیک شخص فوت ہوتا تو وہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا کر تصویریں لگا دیتے۔ ایسے لوگ قیامت میں بدترین مخلوق ہوں گے۔ صحیح بخاری، حدیث 427۔ صحیح مسلم میں ہے کہ وفات سے پانچ دن پہلے آپ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بناتے تھے۔ خبردار! تم ایسا نہ کرنا، میں تمہیں منع کرتا ہوں۔ صحیح مسلم، حدیث 532۔ آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ پر بھی لعنت فرمائی، کیونکہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا۔ صحیح بخاری، حدیث 435۔ جامع ترمذی، حدیث 320 میں قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، وہاں مسجد بنانے اور چراغ جلانے والوں کے بارے میں سخت وعید منقول ہے۔ تاہم اس کی سند اور خواتین کی زیارت کے حکم میں اختلاف ہے۔ تو پھر مزارات پر چادریں، دھاگے اور منتوں کی رسومات کہاں سے آئیں؟ برصغیر میں صدیوں کے دوران مقامی ثقافت، مذہبی اور صوفی روایات باہم ملتی رہیں۔ یوں رسمیں عوام میں رائج ہو گئیں۔ سب کو ہندو مذہب سے منسوب کرنا درست نہیں۔ لیکن کیا اسلام نے قبروں کی زیارت ہی منع کر دی؟ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔ صحیح مسلم، حدیث 976۔ غور کیجیے! قبرستان جانے کا مقصد موت اور آخرت کو یاد کرنا ہے، نہ کہ دھاگوں اور چادروں سے اپنی خواہشیں پوری ہونے کی امید باندھنا۔ کسی مرحوم کے لیے دعا کرنا الگ عمل ہے، مگر قبر کو عبادت کا مرکز بنانا یا کسی رسم کو قسمت بدلنے کا ذریعہ سمجھنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ فوت شدہ بزرگ کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگنے پر بھی علماء کی مختلف آرا ہیں، لیکن اس اختلاف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دھاگے باندھنا یا چادریں چڑھانا دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ سوچیے، کوئی ماں بیمار بچے کی صحت کے لیے دھاگا باندھتی ہے، کوئی نوجوان روزگار کی امید میں چادر چڑھاتا ہے، اور کوئی غم زدہ شخص سمجھتا ہے کہ اس رسم کے بغیر دعا قبول نہیں ہوگی۔ ان کی تکلیف سچی ہے، مگر کیا اللہ تک فریاد پہنچانے کے لیے ان چیزوں کی ضرورت ہے؟ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ سورۃ البقرہ، آیت 186۔ اگلی بار کسی مزار پر جائیں تو سوچیے: کیا میں یہاں موت اور آخرت کو یاد کرنے آیا ہوں، یا ایسی رسموں سے امید لگائے بیٹھا ہوں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دعا کی قبولیت کی شرط نہیں بنایا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ سورۃ البقرہ، آیت 186۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral

About