@sadia.92: بڑے سکون سے کاٹا عذاب تنہائی میں اپنے اپ سے مدت کے بعد مل پائی کیا کہ میں اپنے اپ سے مدت کے بعد میں دیتا ہوں اچھا کسی طرح تو بکھرنا ہی تھا یہ ریت کا گھر کسی طرح تو بھی کرنا ہی تھا یہ ریت کا گھر ہوائے ظلم سمندر کی موج لے ائی یہ سب غلط کہ ہمیں فرصت خیال رکھ صحیح یہ کہ کوئی یاد ہی نہیں ائی خطائیں دونوں کی اکثر اور تعجب ہے کسی کو دانت ملی اور کسی کو رسوائی کیا کہنے زمانہ مجھ کو مٹاتا رہا ہے صدر ردائے خاک سے میں مثل گل نکل