حضور ﷺکی وفات کے بعد حضرت فاطمہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے ان اموال (ترکہ ) سے اپنی میراث کا مطالبہ فرمایا جو اللہ تعالی نے رسول اللہْﷺ کو مدینہ اور فدک میں عنایت فرمائے تھے ،اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہﷺ کی وہ روایت مبارکہ سنائی ’’ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے‘‘البتہ آل محمد اسی مال میں سے اپنی ضرورت پوری کرے گی اور خدا کی قسم جو صدقہ رسول اللہﷺچھوڑ گئے اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا،جس حال میں وہ حضور ﷺکے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں وہی طرز عمل اختیا ر کروں گا جو حضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ،اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا راضی ہوگئیں۔
2026-10-27 01:14:19
0
Sahib_e_zaman :
😭😭
التماس ہدیہ 100صلوات برائے خوشنودئ حضرت فاطمةالزھرا سلام اللہ علیہا و تعجیلِ ظہور الحجت القائم علیہ السلام