@miralkhan45670: اگر زمانے میں بیٹی کو شادی کر کے رخصت کرنے کا رواج نہ ہوتا تو بڑھاپے میں والدین کو سب سے بڑا سہارا بیٹیوں کا ہوتا بیٹیاں تو وہ ہوتی ہیں جو ماں کی خاموشی بھی سمجھ لیتی ہیں اور باپ کے چہرے پر چھپی تھکن بھی پڑھ لیتی ہیں جس گھر میں بیٹی ہوتی ہے وہاں ماں باپ کبھی مکمل اکیلے نہیں ہوتے وہ ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھتی ہے ان کے دکھ میں خاموشی سے ساتھ بیٹھتی ہے اور ان کی خوشی میں سب سے زیادہ خوش ہوتی ہے پھر ایک دن اسی بیٹی کو شادی کے نام پر رخصت کر دیا جاتا ہے جس کے بغیر کبھی گھر کا ایک دن بھی ادھورا لگتا تھا وہ دور چلی جاتی ہے مگر اس کا دل آج بھی ماں باپ کے دروازے پر ہی رہتا ہے اور والدین بھی بڑھاپے میں اکثر اسی بیٹی کی آواز سننے کو ترستے ہیں جس نے کبھی ان کا گھر اپنی ہنسی سے آباد رکھا تھا #رخصت_ہوئی_بیٹی_مگر_دل_وہیں_رہ_گیا #بڑھاپے_کا_سب_سے_بڑا_سہارا_بیٹی #ماں_باپ_بیٹی_کی_آواز_کو_ترستے_ہیں #بیٹی_کے_بغیر_والدین_کا_گھر #بیٹی_رخصت_ہو_کر_بھی_ماں_باپ_کی_رہتی_ہے