@listing.history: اوزن حسن کی تاریخ حصہ دوم ۔۔۔ باب 8: وینس کے ساتھ سفارت عثمانیوں کے خلاف اوزون حسن نے وینس سے اتحاد کی کوشش کی، کیونکہ وینس خود عثمانیوں سے بحری جنگوں میں مصروف تھا۔ 1. **لازارو کوئرینی:** وینس کا پہلا سفیر۔ وہ اوزون حسن کو عثمانیوں پر حملے پر آمادہ نہ کر سکا اور 1471ء میں اوزون حسن کے سفیر مراد کے ساتھ وینس لوٹا۔ 2. **کاترینو زینو:** 7 مارچ 1471ء کو دو امیدواروں کے انکار کے بعد سفیر چنا گیا۔ 3. **جیوسافات باربارو:** اس کا سفر 18 فروری 1473ء کو شروع ہوا۔ 4. **امبروجیو کونتارینی:** وہ فروری 1474ء میں وینس سے روانہ ہوا۔ اوزون حسن نے فیصلہ کیا کہ کونتارینی رپورٹ لے کر واپس جائے اور باربارو وہیں رہے۔ باربارو اوزون حسن کی وفات (1478ء) کے بعد آخری وینیشین سفیر کے طور پر نکلا اور ایک آرمینیائی رہنما کی مدد سے بچ نکلا۔ باربارو اور کونتارینی کے سفرنامے آج بھی اس دور کے دربار، لباس اور رسوم کے اہم ماخذ ہیں۔ وینس کی عملی مدد کے بارے میں ماخذ میں اختلاف ہے۔ بعض جدید تحقیقات کے مطابق اسلحہ اور ماہرین بھیجے گئے، مگر مجموعی طور پر یہ اتحاد عثمانیوں کے خلاف کامیاب نہ ہو سکا۔ ## باب 9: عثمانیوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ (1473ء) 1473ء میں اوزون حسن کا بیٹا **اوغورلو محمد** عثمانی سرحد پر مہم کی قیادت کر رہا تھا۔ اس نے عثمانی فوج پر ابتدائی کامیابی حاصل کی اور باپ سے درخواست کی کہ عثمانی سپہ سالار **محمود پاشا انجلووچ** پر فوری حملہ کیا جائے۔ لیکن اوزون حسن کی سب سے اہم بیوی **سلجوق شاہ بیگم** نے اسے روک دیا، یہ کہہ کر کہ اوغورلو محمد اپنی شہرت کے لیے رومیوں کو خود شکست دینا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اوزون حسن نے فوجی قیادت بدل کر خود کمان سنبھالی۔ سب سے چھوٹا بیٹا **زینل بیگ** بھی اس کے ساتھ تھا۔ **11 اگست 1473ء** کو **اوتلوق بیلی** (باشکنت) کے میدان میں سلطان محمد فاتح کی عثمانی فوج نے آق قویونلو فوج کو شکست دی۔ شہزادہ **زینل** اسی جنگ میں مارا گیا۔ عثمانیوں کے پاس توپیں اور آتشیں ہتھیار تھے جو فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ اس شکست سے اوزون حسن کی فوجی طاقت کو بڑا دھچکا لگا، اگرچہ ریاست فوراً ختم نہ ہوئی۔ **اوغورلو محمد کا انجام:** - وہ 1469ء سے 1474ء تک اصفہان کا گورنر رہا۔ - جانشینی کے مسئلے پر درباری گروہ بندی اور باپ سے اختلاف کے بعد اس نے بغاوت کی اور شیراز پر قبضہ کر لیا۔ - 1475ء میں وہ عثمانیوں کے پاس چلا گیا۔ سلطان محمد فاتح نے اسے اپنی بیٹی بیاہ دی، اور ان کا بیٹا **احمد بیگ** ہوا۔ - 1477ء میں وہ ارزنجان کے قریب قتل ہو گیا۔ باب 10: نظامِ حکومت اوزون حسن نے ایک خانہ بدوش قبائلی کنفیڈریشن کو مستقل فارسی-اسلامی سلطنت میں بدلنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے: - مرکزی انتظامیہ کو وسعت دی - ایرانی انتظامی خاندانوں کو بھرتی کیا - **قانون نامے** جاری کیے، جن میں تجارتی، دیوانی، فوجداری اور مالی قوانین شامل تھے - علماء اور مذہبی طبقے کی سرپرستی کی باب 11: علم، فن اور تعمیرات - **تاریخ نویسی:** ابوبکر طہرانی نے 1473ء/1474ء میں **"کتابِ دیار بکریہ"** لکھی، جو قرہ قویونلو اور آق قویونلو کی تاریخ کا بنیادی ماخذ ہے۔ طہرانی سرکاری خط و کتابت میں بھی اوزون حسن کی مدد کرتا تھا۔ - **جامع اوزون حسن (تبریز):** یہ مسجد تقریباً 1477ء سے 1484ء کے درمیان تعمیر ہوئی۔ - **ہشت بہشت محل (تبریز):** یہ محل اوزون حسن کے دور میں شروع ہوا اور اس کے بیٹے یعقوب نے مکمل کیا۔ تکمیل عموماً 1483ء سے 1486ء کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ - تبریز کا کتب خانہ، مصوری اور خطاطی بعد کے دور میں بھی ترقی کرتی رہی۔ Follow Request ❤️🩹 Need Your Support ❤️🔥