@jorgehuamanta:

Jorge Huamanta
Jorge Huamanta
Open In TikTok:
Region: PE
Sunday 25 October 2026 17:00:09 GMT
15318
260
7
91

Music

Download

Comments

virginia.acaro
Virginia Acaro :
que.donito
2026-10-25 22:43:46
0
user2158696224937
user2158696224937 :
amén Jesús te amo
2026-10-25 19:15:33
0
margaritadiasz
Margarita 🌸 :
2026-10-25 20:07:15
0
marcos.yony.reque
Marcos Yony Requejo Mendoza :
😳😳😳
2026-10-26 00:22:20
0
esthethuamanta123
Esther Huamanta :
[Conmovedor][Conmovedor]
2026-10-25 19:14:45
0
marinorojasmalqui
Marino13 :
😁😁😁
2026-10-25 18:27:58
0
tubebesito367
👑🌽tu bebesito 🌽👑 :
[Risita][Risita]
2026-10-26 01:39:58
0
To see more videos from user @jorgehuamanta, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خشک بھی نہ ہو پائی روشنائی حرفوں کی جان من مکرنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے فرد کی نہیں ہے یہ بات ہے قبیلے کی گر کے پھر سنبھلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے درد کی کہانی کو عشق کے فسانے کو داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے دستکیں بھی دینے پر در اگر نہ کھلتا ہو سیڑھیاں اترنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خواہشیں پرندوں سے لاکھ ملتی جلتی ہوں دوست پر نکلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے عمر بھر کی مہلت تو وقت ہے تعارف کا زندگی سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے زلزلے کی صورت میں عشق وار کرتا ہے سوچنے سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے بھیڑ وقت لیتی ہے رہنما پرکھنے میں کاروان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے مستقل نہیں امجدؔ یہ دھواں مقدر کا لکڑیاں سلگنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے امجد اسلام امجد  #sufi #sahibzadaasimmaharvi #dervaish #travels #fyp
دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خشک بھی نہ ہو پائی روشنائی حرفوں کی جان من مکرنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے فرد کی نہیں ہے یہ بات ہے قبیلے کی گر کے پھر سنبھلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے درد کی کہانی کو عشق کے فسانے کو داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے دستکیں بھی دینے پر در اگر نہ کھلتا ہو سیڑھیاں اترنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خواہشیں پرندوں سے لاکھ ملتی جلتی ہوں دوست پر نکلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے عمر بھر کی مہلت تو وقت ہے تعارف کا زندگی سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے زلزلے کی صورت میں عشق وار کرتا ہے سوچنے سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے بھیڑ وقت لیتی ہے رہنما پرکھنے میں کاروان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے مستقل نہیں امجدؔ یہ دھواں مقدر کا لکڑیاں سلگنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے امجد اسلام امجد #sufi #sahibzadaasimmaharvi #dervaish #travels #fyp

About