@mpomitha: lebih baik mudur daripada berubah demi orang lain dan gak jadi diri sendiri#storywa #mpomitha #iburumahtangga #berandatiktok

ka ayu
ka ayu
Open In TikTok:
Region: ID
Monday 26 October 2026 02:36:34 GMT
275
7
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @mpomitha, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Shower Shiner عنوان:اولاد: حق، ذمہ داری یا احسان؟ دینِ اسلام کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ کر اس تحریر کو پڑھیے۔ ممکن ہے آپ کو باتیں تلخ لگیں، لیکن براہِ کرم غور ضرور کیجیے گا۔ کوئی اولاد اپنے والدین کے سر پر بندوق رکھ کر خود کو پیدا نہیں کرواتی۔ نہ ہی پیدا ہوتے وقت اس نے کسی اسٹامپ پیپر پر کوئی معاہدہ دستخط کیا ہوتا ہے۔ جس جگہ (دنیا) میں والدین اولاد کو لے کر آتے ہیں، وہ کوئی پھولوں کا باغ نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے۔ یہاں ہر لمحہ ذہنی اور جسمانی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں؛ چاہے وہ سوئی کی چبھن ہو، کوئی بڑی جسمانی بیماری ہو یا ذہنی اذیت۔ سوچیے، اگر کسی کو زبردستی اے سی کی ٹھنڈی فضا سے نکال کر سخت دھوپ میں کھڑا کر دیا جائے، اور اوپر سے کہا جائے کہ یہ تم پر ہمارا احسان ہے، ہمیں دعائیں دو — تو کیسا لگے گا؟ یقیناً برا لگے گا، غصہ آئے گا۔ یہ دنیا بھی اولاد کے لیے کسی سخت دھوپ کی مانند ہے، جہاں والدین اسے اپنی مرضی سے لے آتے ہیں۔ یہاں باپ کی مثال کسی درخت کے سائے یا اے سی جیسی ٹھنڈی ہوا کی طرح دی جاتی ہے۔ مگر کیا یہ سایہ صرف 18 یا 20 سال کے لیے ہوتا ہے؟ کیا ذمہ داری آخری سانس تک قائم نہیں رہنی چاہیے؟ اگر والدین نے 18 یا 20 سال اولاد کو دھوپ سے بچا بھی لیا، تو باقی کے 40 یا 50 سال جو وہ اسی دھوپ میں گزارتی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر دنیا کی اس تپش میں لانا نہ ہوتا تو جلنا بھی نہ پڑتا۔ دوسری طرف اولاد پیدا کرنا کسی قرض لینے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی بینک سے 60 لاکھ کا قرض لے تو اسے پورا ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ 20 یا 25 لاکھ ادا کر کے باقی رقم بینک مینیجر پر چھوڑ دی جائے۔ اسی طرح اولاد کی ذمہ داری بھی مکمل ہوتی ہے، جزوی نہیں۔ ~اولاد کے لیے محض پیدا ہونا کوئی فائدہ نہیں، اگر اس کے ساتھ مسلسل اذیت جڑی ہو۔~ بعض اوقات والدین اپنے بڑھاپے کو سنوارنے کے لیے کئی جانوں کو 60 یا 80 سال کی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، اور یہاں بھی وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ والدین اولاد کو پیدا کرنے کے بعد لاوارث بھی چھوڑ سکتے تھے۔ تو چھوڑ دیتے۔ زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کی تڑپ ہوتی اور بات ختم ہو جاتی۔ وہ چند گھنٹوں کی اذیت شاید 60 یا 70 سال کی مسلسل تکلیف سے ہزار گنا بہتر ہوتی۔ جہاں تک والدین کے اس عمل پر آخرت میں سزا یا جزا کا تعلق ہے، اس بحث میں نہیں پڑتے۔ وہاں بھی ہر شخص اپنا نفع و نقصان دیکھ رہا ہوتا ہے۔ زاویار سیال✍🏻
Shower Shiner عنوان:اولاد: حق، ذمہ داری یا احسان؟ دینِ اسلام کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ کر اس تحریر کو پڑھیے۔ ممکن ہے آپ کو باتیں تلخ لگیں، لیکن براہِ کرم غور ضرور کیجیے گا۔ کوئی اولاد اپنے والدین کے سر پر بندوق رکھ کر خود کو پیدا نہیں کرواتی۔ نہ ہی پیدا ہوتے وقت اس نے کسی اسٹامپ پیپر پر کوئی معاہدہ دستخط کیا ہوتا ہے۔ جس جگہ (دنیا) میں والدین اولاد کو لے کر آتے ہیں، وہ کوئی پھولوں کا باغ نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے۔ یہاں ہر لمحہ ذہنی اور جسمانی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں؛ چاہے وہ سوئی کی چبھن ہو، کوئی بڑی جسمانی بیماری ہو یا ذہنی اذیت۔ سوچیے، اگر کسی کو زبردستی اے سی کی ٹھنڈی فضا سے نکال کر سخت دھوپ میں کھڑا کر دیا جائے، اور اوپر سے کہا جائے کہ یہ تم پر ہمارا احسان ہے، ہمیں دعائیں دو — تو کیسا لگے گا؟ یقیناً برا لگے گا، غصہ آئے گا۔ یہ دنیا بھی اولاد کے لیے کسی سخت دھوپ کی مانند ہے، جہاں والدین اسے اپنی مرضی سے لے آتے ہیں۔ یہاں باپ کی مثال کسی درخت کے سائے یا اے سی جیسی ٹھنڈی ہوا کی طرح دی جاتی ہے۔ مگر کیا یہ سایہ صرف 18 یا 20 سال کے لیے ہوتا ہے؟ کیا ذمہ داری آخری سانس تک قائم نہیں رہنی چاہیے؟ اگر والدین نے 18 یا 20 سال اولاد کو دھوپ سے بچا بھی لیا، تو باقی کے 40 یا 50 سال جو وہ اسی دھوپ میں گزارتی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر دنیا کی اس تپش میں لانا نہ ہوتا تو جلنا بھی نہ پڑتا۔ دوسری طرف اولاد پیدا کرنا کسی قرض لینے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی بینک سے 60 لاکھ کا قرض لے تو اسے پورا ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ 20 یا 25 لاکھ ادا کر کے باقی رقم بینک مینیجر پر چھوڑ دی جائے۔ اسی طرح اولاد کی ذمہ داری بھی مکمل ہوتی ہے، جزوی نہیں۔ ~اولاد کے لیے محض پیدا ہونا کوئی فائدہ نہیں، اگر اس کے ساتھ مسلسل اذیت جڑی ہو۔~ بعض اوقات والدین اپنے بڑھاپے کو سنوارنے کے لیے کئی جانوں کو 60 یا 80 سال کی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، اور یہاں بھی وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ والدین اولاد کو پیدا کرنے کے بعد لاوارث بھی چھوڑ سکتے تھے۔ تو چھوڑ دیتے۔ زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کی تڑپ ہوتی اور بات ختم ہو جاتی۔ وہ چند گھنٹوں کی اذیت شاید 60 یا 70 سال کی مسلسل تکلیف سے ہزار گنا بہتر ہوتی۔ جہاں تک والدین کے اس عمل پر آخرت میں سزا یا جزا کا تعلق ہے، اس بحث میں نہیں پڑتے۔ وہاں بھی ہر شخص اپنا نفع و نقصان دیکھ رہا ہوتا ہے۔ زاویار سیال✍🏻

About