@2026h.d:

هُدّى  H .D
هُدّى H .D
Open In TikTok:
Region: US
Monday 26 October 2026 04:08:11 GMT
53
8
1
0

Music

Download

Comments

kamran.karhasanov
Kamran khan302 :
🥰🥰🥰
2026-10-26 07:32:17
0
To see more videos from user @2026h.d, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آر ایچ منفی (Rh-Negative) بلڈ گروپ اور حمل: والد پوزیٹو اور والدہ نیگیٹو ​جب ایک حاملہ خاتون کا بلڈ گروپ Rh-Negative ہو اور بچے کے والد کا بلڈ گروپ Rh-Positive ہو، تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ بچہ اپنے والد کا پوزیٹو بلڈ گروپ وراثت میں حاصل کرے۔ ایسی صورتِ حال کو طبّی زبان میں Rh Incompatibility (آر ایچ عدم مطابقت) کہا جاتا ہے۔ ​آر ایچ فیکٹر (Rh Factor) اور عدم مطابقت کیا ہے؟ ​آر ایچ فیکٹر: یہ سرخ خلیات (Red Blood Cells) کی سطح پر پایا جانے والا ایک خاص پروٹین ہوتا ہے۔ اگر یہ پروٹین موجود ہو تو بلڈ گروپ پوزیٹو اور اگر نہ ہو تو نیگیٹو کہلاتا ہے۔  ​مشکل کی وجہ: اگر بچہ Rh-Positive ہو اور حمل یا ولادت کے دوران بچے کا تھوڑا سا خون ماں کی گردشِ خون (Circulation) میں شامل ہو جائے، تو ماں کا مدافعتی نظام (Immune System) اس پوزیٹو خون کو غیر ملکی عنصر سمجھ کر اس کے خلاف اینٹی باڈیز (Antibodies) بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو Sensitization کہتے ہیں۔  ​پہلا حمل بمقابلہ اگلے حمل ​پہلا حمل (First Pregnancy): عام طور پر پہلا حمل محفوظ رہتا ہے اور اس میں خطرہ بہت کم ہوتا ہے، کیونکہ ماں اور بچے کا خون زیادہ تر ولادت (Delivery) کے وقت آپس میں ملتا ہے۔ اس وقت تک بچے کی پیدائش ہو چکی ہوتی ہے اور اینٹی باڈیز بننے کا وقت نہیں ملتا۔ ​بعد کے حمل (Subsequent Pregnancies): اگر پہلی بار کے بعد ماں کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہوں، تو وہ اگلے حمل میں مشیمہ (Placenta) کو عبور کر کے Rh-Positive بچے کے سرخ خلیات پر حملہ کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے میں شدید خون کی کمی (Anemia)، یرقان (Jaundice) یا Hemolytic Disease of the Newborn (HDN) جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔  ​بچاؤ اور طبی دیکھ بھال (Management & Prevention) ​جدید طبی دیکھ بھال کی بدولت اس مسئلے کا علاج اور بچاؤ انتہائی آسان اور مؤثر ہے: ​۱. بلڈ گروپ اور اینٹی باڈی اسکریننگ (Screening) ​دورانِ حمل کے پہلے طبی معائنے میں والدہ کے بلڈ گروپ کے ساتھ Indirect Coombs Test (ICT) کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ جسم میں پہلے سے کوئی اینٹی باڈیز تو موجود نہیں۔ ​۲. اینٹی ڈی انجکشن (Anti-D Immunoglobulin / RhoGAM) ​اگر والدہ Rh-Negative ہو اور جسم میں اینٹی باڈیز نہ بنی ہوں، تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے Anti-D کے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔  ​معمول کا وقت:  ​28 ہفتے پر: حمل کے 28ویں ہفتے کے قریب ایک خوراک دی جاتی ہے۔ ​پیدائش کے 72 گھنٹوں کے اندر: اگر پیدائش کے بعد بچے کا بلڈ گروپ Rh-Positive آئے، تو والدہ کو 72 گھنٹوں کے اندر اینٹی ڈی کا انجکشن دیا جاتا ہے۔ ​۳. دیگر خاص حالات میں اینٹی ڈی (Additional Indications) ​حمل کے دوران کسی بھی ایسے موقع پر جہاں ماں اور بچے کے خون کے ملنے کا اندیشہ ہو، اینٹی ڈی کی خوراک دی جاتی ہے: ​اسقاطِ حمل (Miscarriage یا Abortion) ​ٹیوب کا حمل (Ectopic Pregnancy) ​دورانِ حمل خون کا رساؤ (Vaginal Bleeding) ​پیٹ پر شدید چوٹ یا صدمہ (Abdominal Trauma) ​مخصوص طبی ٹیسٹ جیسے Amniocentesis یا Chorionic Villus Sampling (CVS) ​۴. اینٹی ڈی کیسے کام کرتا ہے؟ ​یہ انجکشن ماں کے خون میں شامل ہونے والے بچے کے پوزیٹو سرخ خلیات کو ماں کا مدافعتی نظام پہچاننے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔ یوں ماں کا جسم اینٹی باڈیز بنانے سے محفوظ رہتا ہے اور آنے والے حمل بھی محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ​#compatibility  ​#pregnancycare  ​#maternalhealth  ​#obstetricsandgynecology  ​#womenshealth  ​
آر ایچ منفی (Rh-Negative) بلڈ گروپ اور حمل: والد پوزیٹو اور والدہ نیگیٹو ​جب ایک حاملہ خاتون کا بلڈ گروپ Rh-Negative ہو اور بچے کے والد کا بلڈ گروپ Rh-Positive ہو، تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ بچہ اپنے والد کا پوزیٹو بلڈ گروپ وراثت میں حاصل کرے۔ ایسی صورتِ حال کو طبّی زبان میں Rh Incompatibility (آر ایچ عدم مطابقت) کہا جاتا ہے۔ ​آر ایچ فیکٹر (Rh Factor) اور عدم مطابقت کیا ہے؟ ​آر ایچ فیکٹر: یہ سرخ خلیات (Red Blood Cells) کی سطح پر پایا جانے والا ایک خاص پروٹین ہوتا ہے۔ اگر یہ پروٹین موجود ہو تو بلڈ گروپ پوزیٹو اور اگر نہ ہو تو نیگیٹو کہلاتا ہے۔ ​مشکل کی وجہ: اگر بچہ Rh-Positive ہو اور حمل یا ولادت کے دوران بچے کا تھوڑا سا خون ماں کی گردشِ خون (Circulation) میں شامل ہو جائے، تو ماں کا مدافعتی نظام (Immune System) اس پوزیٹو خون کو غیر ملکی عنصر سمجھ کر اس کے خلاف اینٹی باڈیز (Antibodies) بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو Sensitization کہتے ہیں۔ ​پہلا حمل بمقابلہ اگلے حمل ​پہلا حمل (First Pregnancy): عام طور پر پہلا حمل محفوظ رہتا ہے اور اس میں خطرہ بہت کم ہوتا ہے، کیونکہ ماں اور بچے کا خون زیادہ تر ولادت (Delivery) کے وقت آپس میں ملتا ہے۔ اس وقت تک بچے کی پیدائش ہو چکی ہوتی ہے اور اینٹی باڈیز بننے کا وقت نہیں ملتا۔ ​بعد کے حمل (Subsequent Pregnancies): اگر پہلی بار کے بعد ماں کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہوں، تو وہ اگلے حمل میں مشیمہ (Placenta) کو عبور کر کے Rh-Positive بچے کے سرخ خلیات پر حملہ کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے میں شدید خون کی کمی (Anemia)، یرقان (Jaundice) یا Hemolytic Disease of the Newborn (HDN) جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ​بچاؤ اور طبی دیکھ بھال (Management & Prevention) ​جدید طبی دیکھ بھال کی بدولت اس مسئلے کا علاج اور بچاؤ انتہائی آسان اور مؤثر ہے: ​۱. بلڈ گروپ اور اینٹی باڈی اسکریننگ (Screening) ​دورانِ حمل کے پہلے طبی معائنے میں والدہ کے بلڈ گروپ کے ساتھ Indirect Coombs Test (ICT) کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ جسم میں پہلے سے کوئی اینٹی باڈیز تو موجود نہیں۔ ​۲. اینٹی ڈی انجکشن (Anti-D Immunoglobulin / RhoGAM) ​اگر والدہ Rh-Negative ہو اور جسم میں اینٹی باڈیز نہ بنی ہوں، تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے Anti-D کے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔ ​معمول کا وقت: ​28 ہفتے پر: حمل کے 28ویں ہفتے کے قریب ایک خوراک دی جاتی ہے۔ ​پیدائش کے 72 گھنٹوں کے اندر: اگر پیدائش کے بعد بچے کا بلڈ گروپ Rh-Positive آئے، تو والدہ کو 72 گھنٹوں کے اندر اینٹی ڈی کا انجکشن دیا جاتا ہے۔ ​۳. دیگر خاص حالات میں اینٹی ڈی (Additional Indications) ​حمل کے دوران کسی بھی ایسے موقع پر جہاں ماں اور بچے کے خون کے ملنے کا اندیشہ ہو، اینٹی ڈی کی خوراک دی جاتی ہے: ​اسقاطِ حمل (Miscarriage یا Abortion) ​ٹیوب کا حمل (Ectopic Pregnancy) ​دورانِ حمل خون کا رساؤ (Vaginal Bleeding) ​پیٹ پر شدید چوٹ یا صدمہ (Abdominal Trauma) ​مخصوص طبی ٹیسٹ جیسے Amniocentesis یا Chorionic Villus Sampling (CVS) ​۴. اینٹی ڈی کیسے کام کرتا ہے؟ ​یہ انجکشن ماں کے خون میں شامل ہونے والے بچے کے پوزیٹو سرخ خلیات کو ماں کا مدافعتی نظام پہچاننے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔ یوں ماں کا جسم اینٹی باڈیز بنانے سے محفوظ رہتا ہے اور آنے والے حمل بھی محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ​#compatibility ​#pregnancycare ​#maternalhealth ​#obstetricsandgynecology ​#womenshealth ​

About