@shahzaib.1575: #"کرکٹ کی تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرا دیا! پاکستان کے لیجنڈری آل راؤنڈر عبدالرزاق نے جنوبی افریقہ کے خلاف وہ تاریخی اننگز 31 اکتوبر 2010 کو ابوظہبی کے شیخ زاید کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلی تھی، جب مایوس ہو کر لوگ اسٹیڈیم چھوڑ کر چلے گئے تھے اور بعد میں گھر جا کر پتہ چلا کہ پاکستان تو میچ جیت چکا ہے۔ اس میچ میں انہوں نے طوفانی بلے بازی کرتے ہوئے محض 72 گیندوں پر 109 رنز بنائے تھے۔ آج شاداب خان کی اننگز بھی بالکل ویسی ہی تھی! سلمان علی آغا اور عرفات منہاس کے آؤٹ ہونے کے بعد بہت سارے شائقینِ کرکٹ امید ہار کر اسٹیڈیم سے چلے گئے تھے کیونکہ میچ پوری طرح انگلینڈ کے حق میں جا چکا تھا، لیکن آج شاداب نے عبدالرزاق کی یاد تازہ کر دی اور ناممکن میچ کو فتح میں بدل دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تب عبدالرزاق کے ساتھ آخری وکٹ پر شعیب اختر موجود تھے، اور آج حارث رؤف نے بھی کریز پر رک کر بالکل وہی تاریخی کردار ادا کیا جو شعیب اختر نے نب