@kiran_wriite: جب جواب مختصر ملنے لگ جائیں تو باتیں بھی ختم ہو جایا کرتی ہیں، جب کوئی ہماری لمبی لمبی باتوں کے جواب میں صرف چند لفظ لکھنے لگے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اب اُس کے پاس ہمارے لیے نہ پہلے جیسا وقت رہا ہے، نہ وہ دلچسپی، نہ ہی وہ بےتابی جو کبھی ہماری ہر چھوٹی بڑی بات سننے کے لیے ہوا کرتی تھی۔ کبھی ہم گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے، ایک دوسرے کی خاموشی تک سمجھ لیا کرتے تھے، اور آج حال یہ ہے کہ ایک بات کہنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں سامنے والا اُکتا نہ جائے۔ پہلے اُس کے ایک پیغام سے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی تھی، اب اُس کے مختصر جواب دل میں ہزاروں سوال پیدا کر دیتے ہیں۔ ہم بار بار خود کو سمجھاتے ہیں کہ شاید وہ مصروف ہے، شاید تھکا ہوا ہے، شاید کسی پریشانی میں ہے، مگر دل اُس حقیقت کو ماننے سے انکار کرتا رہتا ہے جسے آنکھیں کب سے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے، سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے، اپنی خوشیاں اور اداسیاں بانٹنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اُسے احساس ہو جاتا ہے کہ جس شخص کو کبھی اُس کی ہر بات عزیز تھی، اب اُسی کے پاس اُس کی بات سننے کے لیے چند لمحے بھی نہیں ہیں۔ اور سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب ہم خاموش ہو جاتے ہیں اور سامنے والا ہماری خاموشی کی وجہ تک نہیں پوچھتا۔ تب سمجھ آتا ہے کہ باتیں اچانک ختم نہیں ہوتیں، اُنہیں ختم کرنے کے لیے پہلے دلچسپی مرتی ہے، پھر اپنائیت کم ہوتی ہے، پھر انتظار تھک جاتا ہے، اور آخر میں وہ دل بھی خاموش ہو جاتا ہے جو کبھی اُس ایک شخص سے بات کرنے کے لیے ہزار بہانے ڈھونڈا کرتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ رشتے ہمیشہ کسی بڑی لڑائی سے ختم نہیں ہوتے، کبھی کبھی صرف مختصر ہوتے ہوئے جواب، طویل ہوتی ہوئی خاموشی اور بدلتا ہوا رویہ ہی اُنہیں ختم کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ 💔