@zainzainu74: #CapCut #foryou *مکمل تحریر:* سیدی انشورنس کے تعلق سے کیا رہنمائی فرماتے ہیں آپ؟ انشورنس چاہے زندگی بیمہ ہو لائف انشورنس ہو چاہے پراپرٹی کی انشورنس ہو چاہے میڈیکل انشورنس ہو سب *سود اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔* تو لائف انشورنس ہو اس کا انداز یہ ہوتا ہے کہ مثال کے طور پہ ہر سال ایک لاکھ روپے جمع کروا رہے ہیں۔ پچیس سال کے لیے کرایا تو پچیس لاکھ ہونے چاہیے لیکن وہ پچیس لاکھ کے بجائے ڈیڑھ کروڑ مل رہا ہے۔ ایک کروڑ مل رہا ہے۔ تو یہ جو پچیس لاکھ سے اوپر زائد رقم مل رہی ہے وہ *سود* ہی ہے۔ اور اگر دوسرے تیسرے سال یہ فوت ہو گیا ہے اس کو اکٹھا وہ کروڑ روپے یا ڈیڑھ کروڑ مل جائے گا۔ یہ جو اس کو اکٹھا مل رہا ہے تو یہ بھی سود ہی ہے جو اضافہ مل رہا ہے۔ پہلے سے مشروط تھا کہ میں اتنے جمع کراؤں گا اور مجھے اس کے بدلے میں اتنے زیادہ ملیں گے۔ اور جو گاڑی کی انشورنس ہے مثال کے طور پہ بالفرض پانچ سالوں کے لیے انشورنس کرائی ہے۔ ہر سال وہ پچیس ہزار جمع کروا رہا ہے۔ اور پانچ سالوں کے لیے ایک لاکھ پچیس جمع کروائے۔ ان پانچ سالوں میں گاڑی کا کوئی ایکسیڈنٹ ہو گیا کوئی نقصان ہو گیا کمپنی پورا کرے گی۔ چاہے وہ نقصان پانچ لاکھ کا ہو چاہے وہ نقصان دس لاکھ۔ اور نقصان نہ ہوا تو کمپنی نہیں پورا کرے گی اور پیسے ضائع چلے جائیں گے۔ تو یہ جوا ہے؟ جوا اور کس بلا کا نام ہے؟ ہمارے پیسے ضائع ہو جائیں گے یا ہمیں زیادہ پیسے آ جائیں گے تو یہ *جوا* ہے۔ جسے رب نے قرآن میں *شیطانی فعل کہا ہے، نجس اور ناپاک* کہا ہے۔ اسی طرح میڈیکل انشورنس کا بھی یہ ہے۔ جنرل میڈیکل انشورنس کروا لی کہ بھئی جو علاج کروانا ہے کمپنی کرے گی اور میں اسے سالانہ اتنے پے کرتا رہوں گا۔ اگر بیمار نہ ہوا کوئی کلیم نہ کیا تو کوئی پیسے نہیں ملیں گے۔ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جتنے جمع کرائے ہیں اس سے زیادہ کا علاج کروا لیں۔ یہ ہے کہ بالکل علاج نہ کروائیں پیسے ضائع ہو جائیں۔ دونوں صورتیں موجود ہیں۔ تو یہ بھی جوئے پر مشتمل اور ناجائز۔ *مفتی محمد ہاشم خان عطاری*