@.harfeehsaas: کبھی کبھی انسان دوسروں کو سکون دیتے دیتے خود اندر سے بکھر جاتا ہے۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہے، سب کے دکھ سنتا ہے، سب کی پریشانیوں میں ان کا سہارا بنتا ہے، مگر جب اپنی باری آتی ہے تو اپنے ہی دل کو سمجھانے کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ عجیب کیفیت ہوتی ہے نا، جب انسان دوسروں کے لیے سکون کی جگہ بننا چاہتا ہے، مگر اپنے ہی وجود میں اسے سکون میسر نہیں ہوتا۔ کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی کو دکھائی نہیں دیتیں، کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنے سے بھی دل ہلکا نہیں ہوتا، اور کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں انسان خود سے ہی سوال کرتا رہتا ہے کہ آخر میرے اندر اتنی بےچینی کیوں ہے؟ ہم بظاہر ٹھیک ہوتے ہیں، لوگوں سے ہنستے بولتے بھی ہیں، مگر ہمارے اندر ایک ایسی خاموشی بسی ہوتی ہے جس تک کسی کی رسائی نہیں ہوتی۔ شاید اسی لیے اب کسی سے زیادہ توقع نہیں رکھتے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو شخص خود اپنے اندر کے شور سے لڑ رہا ہو، وہ ہر وقت کسی دوسرے کے لیے سکون کا سایہ کیسے بن سکتا ہے؟ مگر ایک بات یاد رکھنا، خود اذیت میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تم کسی کے لیے سکون نہیں بن سکتے۔ کبھی کبھی ٹوٹے ہوئے دل ہی دوسروں کے درد کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ❤️🩹