@rabeya.akter9278:

🇨🇳জাতীর Jhope এর বউ🇧🇩
🇨🇳জাতীর Jhope এর বউ🇧🇩
Open In TikTok:
Region: US
Monday 26 October 2026 10:12:22 GMT
0
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @rabeya.akter9278, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#creatorsearchinsights #muslimcontent  سوال یہ ہے کہ انسان ہے نا انسان کو شیطان عجیب عجیب وسوسے دیتا ہے کہ یار ہم ایک طرف تو کہتے ہیں واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے لیکن نبی پاک علیہ السلام تو اپنی قبر منور میں ہیں۔ اچھا جناب چلیں مان لیں کہ وہ سن لیتے ہیں مگر میری بولی اور ہے، حضور کی لینگویج اور ہے وہ میری آواز کو میری بات کو کیسے سمجھیں گے۔ اچھا پھر اسی طرح نبی پاک اگر مزار میں جلوہ فرما ہیں تو آرام بھی تو کرتے ہوں گے، جب آرام کرتے ہوں گے تو میری پکار کیسے سنیں گے۔ اچھا جب کروڑوں لوگ انہیں پکار رہے ہیں تو سب کی آوازیں کیسے سنیں گے؟ تو کیا پیارا جواب علماء نے دیا کہ دیکھیں عام انسان کو رب نے دو آنکھیں دی ہیں، دو کان دیے ہیں، مگر اپنے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کو سارے عالم کا نبی بنایا ہے نا تو اللہ نے دل ایسا دیا کہ جس دل میں بھی دو کان ہیں اور دو آنکھیں موجود ہیں۔ جب حضرت جبرائیل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے جب سینہ مبارک کھولا نا دل منور باہر نکالا تو اس مقدس دل کو جبرائیل امین کہنے لگے: *قَلْبٌ سَیِّدٌ فِیْہِ عَیْنَانِ تَبْصُرُ وَ اُذُنَانِ تَسْمَعَانِ* فرماتے ہیں دل پاک ہر کجی یعنی ٹیڑھے پن سے پاک ہے اس میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں۔ اور یہ دیکھیں بڑی پیاری بات علماء نے کی کہ اللہ کریم نے جب تمام جہانوں کا نبی بنا کر بھیجا ہے تو یہ لازمی ہے کہ آپ کو تمام جہانوں کو دیکھنے اور تمام جہانوں کو سننے کی صلاحیت بھی دی جائے۔ اس عالم میں موجود ہر مخلوق کی، نبی پاک صرف انسانوں کی نہیں، میرے آقا کی حدیثیں پڑھیں واقعات پڑھیں کہ حضور سے آکر جانور باتیں کیا کرتے تھے نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام جمادات کا، پتھروں کا سلام بھی سن لیا کرتے تھے تو اللہ نے ایسی صلاحیتوں سے اپنے حبیب علیہ السلام کو نوازا۔ اور یہ بات میں ویسے نہیں کر رہا آئیے حدیث سناتا ہوں: نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: اے میرے صحابہ میں وہ دیکھ سکتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے میں وہ سن سکتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ اور کیا کیا سن سکتے ہیں خدا کے؟ فرماتے ہیں، سنیے ہر وسوسے کی انشاءاللہ آج کاٹ ہو جائے گی کہ اللہ نے کیسا اسپیشل اپنے حبیب علیہ السلام کو بنایا۔ حضور فرماتے ہیں: *بے شک آسمان چر چرایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چر چرائے۔* آقا فرماتے ہیں: آسمان پر چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ پیشانی رکھ کر رب کریم کے حضور سجدہ نہ کر رہا ہو۔ دو بڑی باتیں ہیں اس میں۔ پہلے تو یہ بتاؤ کتنا دور ہے آسمان، کبھی سوچا؟ آج تو ملکی ویز اور کتنے پلینٹس اور کتنی کہکشائیں دریافت ہو رہی ہیں، آسمان تو اس سے بھی اوپر ہے۔ کیسے کان ہیں فرما رہے ہیں آسمان چرچرا رہا ہے حضور آواز سن رہے ہیں۔ اللہ اکبر! صرف سن نہیں رہے حضور دیکھ بھی رہے ہیں کہ آسمان پر چار انگلی بھی جگہ نہیں۔ سبحان اللہ سرکار دو عالم ﷺ کو رب نے وہ نگاہ عطا فرمائی کہ آسمان کا چپہ چپہ حضور کی نگاہوں میں ہے، آسمان کے چر چرانے کی آواز حضور علیہ الصلاۃ والسلام سن رہے ہیں، رب کریم نے ایسی مبارک نگاہ اور ایسے مبارک کان عطا فرمائے۔ اب جو حدیث سنانے جا رہا ہوں اب سنیے گا بخاری کی حدیث: نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک بار نبی پاک نے فجر کے وقت اپنے موذن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اے بلال مسلمان ہونے کے بعد جو تم نیک اعمال کرتے ہو ان میں کون سا خاص عمل تم کرتے ہو؟ اور پھر اس کا reason بتایا فرمایا: *میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی ہے۔* ہائے ہائے ہائے! غلام تھے نا، نبی پاک کی مبارک اونٹنی کو لے کر تو چلے گا تو آگے ہوگا، یہ غلام بھی آگے چلتے ہیں کبھی کبھی بادشاہ کے تو، غلام آگے ہیں کہ بلال اپنے آگے میں نے تمہاری آواز سنی ہے۔ حضرت بلال نے عرض کی حضور اور کوئی خاص عمل تو معلوم نہیں البتہ یہ ہے کہ دن یا رات میں جب بھی وضو ٹوٹتا ہے میں فورا وضو کر کے اگر مکروہ وقت نہ ہو تو تحیتہ الوضو کے نوافل پڑھ لیتا ہوں۔ بخاری کی حدیث ہے۔ اب مجھے بتائیے جنت ابھی آگئی؟ ہم جنت میں داخل ہو گئے ہیں؟ حضور جنت میں تشریف فرما ہو گئے ہیں، صحابہ چلے گئے ہیں، دنیا والے چلے گئے ہیں، یہ تو قیامت ابھی طاری ہونی ہے، قیامت کے بعد جنت کا معاملہ ہوگا۔ تو سبحان اللہ رب کریم نے وہ کمال نبی پاک کو عطا فرمایا ہے، ایسا ہی دل نہیں ہے، دل میں آنکھیں بھی اور دل میں کان بھی ہیں نا کہ حضور لاکھوں سال، پتہ نہیں کتنے سال بعد، اس کے بعد ہونے والے واقعات کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں۔
#creatorsearchinsights #muslimcontent سوال یہ ہے کہ انسان ہے نا انسان کو شیطان عجیب عجیب وسوسے دیتا ہے کہ یار ہم ایک طرف تو کہتے ہیں واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے لیکن نبی پاک علیہ السلام تو اپنی قبر منور میں ہیں۔ اچھا جناب چلیں مان لیں کہ وہ سن لیتے ہیں مگر میری بولی اور ہے، حضور کی لینگویج اور ہے وہ میری آواز کو میری بات کو کیسے سمجھیں گے۔ اچھا پھر اسی طرح نبی پاک اگر مزار میں جلوہ فرما ہیں تو آرام بھی تو کرتے ہوں گے، جب آرام کرتے ہوں گے تو میری پکار کیسے سنیں گے۔ اچھا جب کروڑوں لوگ انہیں پکار رہے ہیں تو سب کی آوازیں کیسے سنیں گے؟ تو کیا پیارا جواب علماء نے دیا کہ دیکھیں عام انسان کو رب نے دو آنکھیں دی ہیں، دو کان دیے ہیں، مگر اپنے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کو سارے عالم کا نبی بنایا ہے نا تو اللہ نے دل ایسا دیا کہ جس دل میں بھی دو کان ہیں اور دو آنکھیں موجود ہیں۔ جب حضرت جبرائیل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے جب سینہ مبارک کھولا نا دل منور باہر نکالا تو اس مقدس دل کو جبرائیل امین کہنے لگے: *قَلْبٌ سَیِّدٌ فِیْہِ عَیْنَانِ تَبْصُرُ وَ اُذُنَانِ تَسْمَعَانِ* فرماتے ہیں دل پاک ہر کجی یعنی ٹیڑھے پن سے پاک ہے اس میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں۔ اور یہ دیکھیں بڑی پیاری بات علماء نے کی کہ اللہ کریم نے جب تمام جہانوں کا نبی بنا کر بھیجا ہے تو یہ لازمی ہے کہ آپ کو تمام جہانوں کو دیکھنے اور تمام جہانوں کو سننے کی صلاحیت بھی دی جائے۔ اس عالم میں موجود ہر مخلوق کی، نبی پاک صرف انسانوں کی نہیں، میرے آقا کی حدیثیں پڑھیں واقعات پڑھیں کہ حضور سے آکر جانور باتیں کیا کرتے تھے نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام جمادات کا، پتھروں کا سلام بھی سن لیا کرتے تھے تو اللہ نے ایسی صلاحیتوں سے اپنے حبیب علیہ السلام کو نوازا۔ اور یہ بات میں ویسے نہیں کر رہا آئیے حدیث سناتا ہوں: نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: اے میرے صحابہ میں وہ دیکھ سکتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے میں وہ سن سکتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ اور کیا کیا سن سکتے ہیں خدا کے؟ فرماتے ہیں، سنیے ہر وسوسے کی انشاءاللہ آج کاٹ ہو جائے گی کہ اللہ نے کیسا اسپیشل اپنے حبیب علیہ السلام کو بنایا۔ حضور فرماتے ہیں: *بے شک آسمان چر چرایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چر چرائے۔* آقا فرماتے ہیں: آسمان پر چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ پیشانی رکھ کر رب کریم کے حضور سجدہ نہ کر رہا ہو۔ دو بڑی باتیں ہیں اس میں۔ پہلے تو یہ بتاؤ کتنا دور ہے آسمان، کبھی سوچا؟ آج تو ملکی ویز اور کتنے پلینٹس اور کتنی کہکشائیں دریافت ہو رہی ہیں، آسمان تو اس سے بھی اوپر ہے۔ کیسے کان ہیں فرما رہے ہیں آسمان چرچرا رہا ہے حضور آواز سن رہے ہیں۔ اللہ اکبر! صرف سن نہیں رہے حضور دیکھ بھی رہے ہیں کہ آسمان پر چار انگلی بھی جگہ نہیں۔ سبحان اللہ سرکار دو عالم ﷺ کو رب نے وہ نگاہ عطا فرمائی کہ آسمان کا چپہ چپہ حضور کی نگاہوں میں ہے، آسمان کے چر چرانے کی آواز حضور علیہ الصلاۃ والسلام سن رہے ہیں، رب کریم نے ایسی مبارک نگاہ اور ایسے مبارک کان عطا فرمائے۔ اب جو حدیث سنانے جا رہا ہوں اب سنیے گا بخاری کی حدیث: نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک بار نبی پاک نے فجر کے وقت اپنے موذن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اے بلال مسلمان ہونے کے بعد جو تم نیک اعمال کرتے ہو ان میں کون سا خاص عمل تم کرتے ہو؟ اور پھر اس کا reason بتایا فرمایا: *میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی ہے۔* ہائے ہائے ہائے! غلام تھے نا، نبی پاک کی مبارک اونٹنی کو لے کر تو چلے گا تو آگے ہوگا، یہ غلام بھی آگے چلتے ہیں کبھی کبھی بادشاہ کے تو، غلام آگے ہیں کہ بلال اپنے آگے میں نے تمہاری آواز سنی ہے۔ حضرت بلال نے عرض کی حضور اور کوئی خاص عمل تو معلوم نہیں البتہ یہ ہے کہ دن یا رات میں جب بھی وضو ٹوٹتا ہے میں فورا وضو کر کے اگر مکروہ وقت نہ ہو تو تحیتہ الوضو کے نوافل پڑھ لیتا ہوں۔ بخاری کی حدیث ہے۔ اب مجھے بتائیے جنت ابھی آگئی؟ ہم جنت میں داخل ہو گئے ہیں؟ حضور جنت میں تشریف فرما ہو گئے ہیں، صحابہ چلے گئے ہیں، دنیا والے چلے گئے ہیں، یہ تو قیامت ابھی طاری ہونی ہے، قیامت کے بعد جنت کا معاملہ ہوگا۔ تو سبحان اللہ رب کریم نے وہ کمال نبی پاک کو عطا فرمایا ہے، ایسا ہی دل نہیں ہے، دل میں آنکھیں بھی اور دل میں کان بھی ہیں نا کہ حضور لاکھوں سال، پتہ نہیں کتنے سال بعد، اس کے بعد ہونے والے واقعات کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں۔

About