@silentstrength9661: میں نے سر جھکایا مٹی کے بنے انسان کے سامنے... میں نے اپنی خودی کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا، میں نے اپنی انا کو اس کی دہلیز پر لا کر رکھ دیا۔ میں گڑگڑائی، میں روئی، میں نے ہاتھ جوڑے کہ خدا کے لیے مجھے چھوڑ کر مت جاؤ، میں مر جاؤں گی۔ میں بھول گئی تھی کہ میں کس کے سامنے رو رہی ہوں؟ اس کے سامنے جس کا دل بھی مٹی کا ہے، جس کی وفا بھی مٹی کی طرح بکھر جانے والی ہے۔ اور وہیں، اسی لمحے، میرا رب دیکھ رہا تھا۔ وہ رب جو مجھے تہجد میں سسکتے ہوئے دیکھتا تھا، وہ رب جو میری خاموش ہچکیوں کو بھی سنتا تھا، اسے میری یہ بے بسی کیسے گوارا ہوتی کہ اس کی بندی کسی اور کے سامنے یوں بے مول ہو جائے؟ تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی، اس نے میری سنی ہی نہیں۔ اس نے اس انسان کو مجھ سے چھین لیا۔ پھر اس نے مجھے تنہا کر دیا، ایسا تنہا کہ مجھے لگا زمین نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے۔ نہ کوئی دوست، نہ کوئی اپنا، ہر طرف ایک قبر جیسی خاموشی۔ میں چیخنا چاہتی تھی پر سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اور اسی قبر جیسی خاموشی میں، اسی ٹوٹے ہوئے دل میں، اس نے بڑی محبت سے، بڑے لاڈ سے مجھ سے پوچھا... *"میرے بندے... تو نے اپنا سر میرے سوا کہیں اور کیوں جھکایا؟ بتا مجھے، کون ہے تیرا میرے سوا؟ کون سنے گا تیرے دل کی اس چیخ کو میرے سوا؟ کون آئے گا تیری اس تنہائی میں میرے سوا؟"* اور میں وہیں سجدے میں گر گئی۔ ہاں میرے اللہ! کوئی نہیں ہے تیرے سوا۔ میں ہار گئی، میں مٹی کے انسان سے ہار کر تیری چوکھٹ پر آ گئی ہوں۔ اب مجھے کبھی تنہا مت چھوڑنا، کیونکہ انسان تو چھوڑ دیتے ہیں، تو کبھی نہیں چھوڑتا۔