عمران پٹھان کے حوالے سے جہلم کی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چند اہم سوالات ہیں۔ مبینہ طور پر جہلم میں غیر قانونی جسم فروشی، شراب نوشی، جوئے اور اسلحے کی خرید و فروخت جیسی سرگرمیوں کے حوالے سے سنگین شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اگر ان شکایات میں حقیقت ہے تو یہ ہمارے شہر کے امن، نوجوان نسل اور معاشرتی ماحول کے لیے انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے۔ آخر متعلقہ ادارے اس معاملے کا نوٹس کیوں نہیں لے رہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر نہیں ہونا چاہیے؟ اگر کسی شخص کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ہماری انتظامیہ اور پولیس سے اپیل ہے کہ ان شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ جہلم ہمارا شہر ہے، اس کے امن، عزت اور نوجوان نسل کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون حرکت میں آئے اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
2026-10-27 19:46:28
4
Fatha Janjua :
شہباز بٹ کی صحافت پر سوالات — پولیس حکام سے گزارش
شہباز بٹ آخر کس حیثیت سے خود کو رپورٹر یا اینکر کہتا ہے؟ اگر کوئی شخص ملک سے باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر خبریں چلاتا ہے تو اس کی خبروں کی سچائی اور ان کے ذرائع کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہے۔ صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ ہے، جس کا مقصد عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا یا کسی شریف شہری کو بلاوجہ پریشان کرنا۔
میرا پولیس حکام سے سوال ہے کہ اگر کوئی شخص آپ تک غلط یا غیر مصدقہ اطلاعات پہنچاتا ہے، تو کیا ان اطلاعات کی تصدیق کرنا ضروری نہیں؟ کیا کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے حقائق، شواہد اور دونوں فریقوں کا مؤقف جاننا ضروری نہیں؟ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے کوئی عام شہری ہو یا سوشل میڈیا پر خود کو رپورٹر یا اینکر کہنے والا شخص۔
اگر کسی کے ناجائز کاروبار، شراب فروشی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، تو ان کی بھی قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی کو محض اپنے تعلقات، اثر و رسوخ یا مالی مفادات کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے یا پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس معاملے کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
پولیس حکام سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ہر خبر کو آنکھیں بند کرکے درست تسلیم نہ کیا جائے۔ خبر دینے والے کی شناخت، اس کے شواہد اور اس کے مؤقف کی تصدیق کی جائے۔ اگر کسی نے کسی بے گناہ شہری کے خلاف جھوٹی شکایت یا غلط معلومات فراہم کی ہیں، تو ثبوت سامنے آنے پر اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شریف شہریوں کو تحفظ دینا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی شہری کو محض سوشل میڈیا پر چلنے والی غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص خود کو صحافی کہتا ہے تو اسے بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے، کیونکہ صحافت کی آڑ میں کسی کو نقصان پہنچانا قابلِ قبول نہیں۔
میرا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، خبروں کی تصدیق ہو، جھوٹے الزامات کی تحقیقات ہوں اور جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
2026-10-27 20:27:50
1
Sana Fatima 🫀 :
Sham on you panjab police ka ap is jasay koe Banda pasay Jhelum sy ku nahi nikaltay ma zinda misal hu ka is ki waja sy humara pura ghir tubha Hoya va 🥺🙏🏻🙏🏻
2026-10-27 19:55:17
5
Jhelum Ki Awaz :
Both are scammers 😅❌❌❌❌❌❌❌❌❌❌❌
2026-10-27 20:17:37
1
Bund Basty 👌🏻 :
😱😱😱😱
2026-10-27 20:47:08
1
Fatha Janjua :
😂😂😂
2026-10-27 20:29:04
0
To see more videos from user @jhelum.update3, please go to the Tikwm
homepage.