@sheikh.kashif.raza: اس لائن کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس بولنے کے لیے زبان بھی تھی، اپنی بات سمجھانے کے لیے الفاظ بھی تھے اور سامنے والے کے پاس سننے کے لیے کان بھی تھے، لیکن اس کے باوجود انسان خاموش رہا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سامنے والا اس کی بات سن تو سکتا ہے، مگر سچ قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ بعض اوقات انسان اس لیے خاموش نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سچی بات سامنے والے کو ناگوار گزرے گی، وہ حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے بحث کرے گا یا اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے گا۔ سادہ الفاظ میں: ہر انسان سچ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اسی لیے بعض اوقات خاموش رہنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جہاں سچ برداشت کرنے کا حوصلہ نہ ہو، وہاں الفاظ بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔ 💯❤️ #حقیقت #fypシ #followers➕