@ishaqwala11: رات کے اس پہر جب شہر کی ہر آواز تھم چکی تھی اور چاروں طرف ایک گہرا سناٹا پھیل گیا تھا، کمرے کی مدھم روشنی میں وہ پلنگ پر لیٹا ہوا تھا مگر اس کی آنکھیں نیند سے نہیں بلکہ کسی انجانے خوف اور پرانی اداسی سے بوجھل تھیں۔ دن بھر کے تھکے ہارے وجود کو جب بستر کا سکون ملا تو اس نے سوچا شاید اب کچھ دیر دل کو قرار مل جائے گا، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ بیداری کے اذیت ناک لمحات ختم ہونے کے بعد روح کا اصل امتحان تو اب شروع ہونے والا ہے۔ جیسے ہی اس کی پلکیں بند ہوئیں، لاشعور نے اسے وقت کے اس موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں سے ہر یاد ایک تیر کی طرح چبھتی ہے۔ خواب کی اس دھندلکا زدہ دنیا میں وہ اکیلا نہیں تھا؛ بالکل سامنے وہی سایہ موجود تھا جس کے ہونے سے کبھی اس کی زندگی میں بہاریں اترا کرتی تھیں، لیکن آج اس چہرے پر اپنائیت کے بجائے ایک سرد مہری اور بے رخی تھی۔ اس نے بڑھ کر ایک بار پھر امید کی آخری ڈور کو تھامنا چاہا، مگر اس لمحے اس نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ سے وہ ہاتھ بڑی بے دردی سے جھٹک دیا گیا ہے جسے تھام کر اس نے کبھی ساری دنیا سے لڑنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ منظر اتنا اچانک اور دل چیر دینے والا تھا کہ اس خواب کے اندر ہی اس کا پورا وجود لرز اٹھا۔ جب وہ ہڑبڑا کر نیند کے طلسم سے باہر نکلا تو اس کا سارا جسم پسینے میں ڈوب چکا تھا اور حقیقت کے اندھیرے میں اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ دل پر اس بات کا شدید صدمہ تھا کہ اب صرف حقیقت ہی نہیں بلکہ نیند کی وہ پناہ گاہیں اور خوابوں کی دنیا بھی اس کے خلاف ہو چکی تھی، جہاں کبھی اسے سکون اور اپناپن ملنے کی آخری امید باقی تھی۔
رات کے اس پہر جب شہر کی ہر آواز تھم چکی تھی اور چاروں طرف ایک گہرا سناٹا پھیل گیا تھا، کمرے کی مدھم روشنی میں وہ پلنگ پر لیٹا ہوا تھا مگر اس کی آنکھیں نیند سے نہیں بلکہ کسی انجانے خوف اور پرانی اداسی سے بوجھل تھیں۔ دن بھر کے تھکے ہارے وجود کو جب بستر کا سکون ملا تو اس نے سوچا شاید اب کچھ دیر دل کو قرار مل جائے گا، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ بیداری کے اذیت ناک لمحات ختم ہونے کے بعد روح کا اصل امتحان تو اب شروع ہونے والا ہے۔ جیسے ہی اس کی پلکیں بند ہوئیں، لاشعور نے اسے وقت کے اس موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں سے ہر یاد ایک تیر کی طرح چبھتی ہے۔
خواب کی اس دھندلکا زدہ دنیا میں وہ اکیلا نہیں تھا؛ بالکل سامنے وہی سایہ موجود تھا جس کے ہونے سے کبھی اس کی زندگی میں بہاریں اترا کرتی تھیں، لیکن آج اس چہرے پر اپنائیت کے بجائے ایک سرد مہری اور بے رخی تھی۔ اس نے بڑھ کر ایک بار پھر امید کی آخری ڈور کو تھامنا چاہا، مگر اس لمحے اس نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ سے وہ ہاتھ بڑی بے دردی سے جھٹک دیا گیا ہے جسے تھام کر اس نے کبھی ساری دنیا سے لڑنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ منظر اتنا اچانک اور دل چیر دینے والا تھا کہ اس خواب کے اندر ہی اس کا پورا وجود لرز اٹھا۔
جب وہ ہڑبڑا کر نیند کے طلسم سے باہر نکلا تو اس کا سارا جسم پسینے میں ڈوب چکا تھا اور حقیقت کے اندھیرے میں اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ دل پر اس بات کا شدید صدمہ تھا کہ اب صرف حقیقت ہی نہیں بلکہ نیند کی وہ پناہ گاہیں اور خوابوں کی دنیا بھی اس کے خلاف ہو چکی تھی، جہاں کبھی اسے سکون اور اپناپن ملنے کی آخری امید باقی تھی۔
2026-10-27 04:48:53
3
Fatima :
2026-10-27 21:59:56
0
lalalaaaaa :
2026-10-27 09:19:11
1
꧁A-Mᴀɴᴀɴ-Wʀɪᴛᴇʀ & Eᴅɪᴛᴏʀ꧂ :
کمال
کیا بات ہے بہت خوب
❤️❤️❤️
2026-10-27 18:07:40
0
𝑷𝒂𝒓𝒊_𝒘𝒓𝒊𝒕𝒆𝒔🖊 :
2026-10-27 14:03:28
0
Ranaasif Ali :
😁😁😁
2026-10-27 18:45:37
0
KASHIF.8921 :
👍👍👍👍👍
2026-10-27 11:32:01
0
Nasir Shah :
🌹🌹🌹
2026-10-27 15:07:28
0
Nasir Shah :
❤️❤️❤️
2026-10-27 15:07:26
0
Anjan ladki ❤️ :
👍👍👍
2026-10-27 13:44:36
0
mekahilal :
👌👌👌
2026-10-27 12:23:52
0
KASHIF.8921 :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-10-27 11:31:52
0
Ayra khan :
🌹🌹🌹🌹🌹
2026-10-27 10:02:22
0
iftikhar Ahmad. congo 🇵🇰🇨🇩 :
🌹🌹🌹
2026-10-27 06:33:27
0
iftikhar Ahmad. congo 🇵🇰🇨🇩 :
👌👌👌
2026-10-27 06:33:22
0
JavedSubhan :
مجھے خاموش راہوں میں تیرا ساتھ چاہیے
تنہا ہے میرا ہاتھ تیرا ہاتھ چاہیے
مجھ کو میرے مقدر پر اتنا یقین تو ہے
تجھ کو بھی میرے لفظ میری بات چاہیے
میں خود اپنی شاعری کو کیا اچھا کہوں
مجھ کو تیری تعریف ، تیری داد چاہیے
احساس محبت تیرے ہی واسطے ہے لیکن
جنون عشق کو تیری ہر سوغات چاہیے
تو مجھ کو پانے کی خواہش رکھتا ہے شاید
لیکن مجھے جینے کے لیے تیری ہی ذات چاہیے!!
2026-10-27 18:14:33
0
To see more videos from user @ishaqwala11, please go to the Tikwm
homepage.