@dausterus: Kelian pernah liat orang seperti apa di #pantura ? #indramayu #cirebon

Daus Terus
Daus Terus
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 27 October 2026 07:29:07 GMT
12691
646
13
19

Music

Download

Comments

muhammadalexander69
havidz di panggil nengok :
2 kih ang
2026-10-27 07:32:01
1
valssava1
VALSSAVA :
asik maning bae ngomonge
2026-10-27 10:20:18
0
dealeryamahacirebon
BM OJT :
kakaaauuuuuu wkwkwkwkw
2026-11-01 02:41:40
0
pnjagamu2
🅡🅐🅗🅐🅨🅤 86 :
avatar dermayu😭
2026-10-27 23:42:50
1
anakm_barep86
L@UbY :
😂😂😂 kaku bae sun 🤣🤣😅😅
2026-10-30 08:33:35
0
melind4anjani
Mey anjani 🎀 :
Dlamakan e metu 😭😭🤣🤣
2026-10-27 16:53:22
0
anak_anak_sukahaji2
123lesgo :
pertama
2026-10-27 07:31:44
0
sorayaamira2
sorayya amira :
dlamakan [Tertawa sampai menangis][Tertawa sampai menangis][Tertawa sampai menangis]
2026-10-27 10:09:19
1
bismillahsukses891
es jeruk 1998 :
Ha
2026-10-28 03:26:24
0
faa.look.at.the.sky
suff :
lalah
2026-10-27 07:32:27
0
storysingadangdutoficial
sedulur singa dangdut :
pokoke pantura full wong unik[Tertawa sampai menangis][Tertawa sampai menangis][Tertawa sampai menangis]
2026-10-28 04:11:30
0
odah733
odah733 :
2026-10-27 09:56:22
0
user185nayla
Nayla :
😂😂😂😂👍👍👍👍
2026-10-27 14:31:56
0
To see more videos from user @dausterus, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بھرم رکھا ہے تیرے بعد، تیری یادوں کا ہر چیز میسر تھی، دل لگایا بھی جا سکتا تھا مگر دل نے تری یاد کو جانے نہ دیا کوئی نیا شخص زندگی میں لایا بھی جا سکتا تھا شہر آباد تھا، محفل بھی بہت تھی لیکن تیرے بغیر کہیں دل کو بٹھایا بھی جا سکتا تھا لوگ کہتے رہے، وقت ہر زخم بھر دیتا ہے زخم گہرا تھا، اسے وقت پہ چھوڑا بھی جا سکتا تھا تیری تصویر کو سینے سے لگائے رکھا ورنہ اک خواب سمجھ کر اسے بھلایا بھی جا سکتا تھا رات تنہا تھی تو ستارے بھی بہت تھے آسمان پر کسی ستارے سے مگر حال سنایا بھی جا سکتا تھا تیری باتوں کی وہ خوشبو ابھی باقی تھی دل کے کمرے کو کسی اور سے مہکایا بھی جا سکتا تھا ایک لمحے کو اگر خود سے اجازت لیتا اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو بہلایا بھی جا سکتا تھا راستے اور بھی تھے، لوگ بھی اچھے تھے بہت کسی ہمسفر کو مگر اپنا بنایا بھی جا سکتا تھا ہم نے چاہا ہی نہیں تجھ کو بھلانے کی قسم ورنہ ماضی کو کتابوں میں چھپایا بھی جا سکتا تھا تیری یادوں کا چراغ آج بھی روشن ہے مگر اس کی لو کو کبھی آہستہ بجھایا بھی جا سکتا تھا دل نے ہر بار تری سمت پلٹ کر دیکھا اپنے قدموں کو کسی اور طرف لایا بھی جا سکتا تھا کون کہتا ہے محبت میں فقط درد ملا؟ چاہتے تو اس درد کو شعر بنایا بھی جا سکتا تھا ہم نے خاموشی کو آواز بنا رکھا ہے اپنا قصہ کسی محفل میں سنایا بھی جا سکتا تھا مگر وفا کی بھی اپنی کوئی حد ہوتی ہے ہر تعلق کو نئے نام سے نبھایا بھی جا سکتا تھا ہم نے تیرا ہی بھرم رکھا، یہی کافی ہے ورنہ دنیا میں بہت کچھ تو کمایا بھی جا سکتا تھا اب بھی ہر شام تری یاد اتر آتی ہے دل کو سمجھا کے مگر سویا بھی جا سکتا تھا بس یہی بات ہمیں عمر بھر رلاتی رہی تو نہیں تھا، مگر تجھ کو بھلایا بھی جا سکتا تھا
بھرم رکھا ہے تیرے بعد، تیری یادوں کا ہر چیز میسر تھی، دل لگایا بھی جا سکتا تھا مگر دل نے تری یاد کو جانے نہ دیا کوئی نیا شخص زندگی میں لایا بھی جا سکتا تھا شہر آباد تھا، محفل بھی بہت تھی لیکن تیرے بغیر کہیں دل کو بٹھایا بھی جا سکتا تھا لوگ کہتے رہے، وقت ہر زخم بھر دیتا ہے زخم گہرا تھا، اسے وقت پہ چھوڑا بھی جا سکتا تھا تیری تصویر کو سینے سے لگائے رکھا ورنہ اک خواب سمجھ کر اسے بھلایا بھی جا سکتا تھا رات تنہا تھی تو ستارے بھی بہت تھے آسمان پر کسی ستارے سے مگر حال سنایا بھی جا سکتا تھا تیری باتوں کی وہ خوشبو ابھی باقی تھی دل کے کمرے کو کسی اور سے مہکایا بھی جا سکتا تھا ایک لمحے کو اگر خود سے اجازت لیتا اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو بہلایا بھی جا سکتا تھا راستے اور بھی تھے، لوگ بھی اچھے تھے بہت کسی ہمسفر کو مگر اپنا بنایا بھی جا سکتا تھا ہم نے چاہا ہی نہیں تجھ کو بھلانے کی قسم ورنہ ماضی کو کتابوں میں چھپایا بھی جا سکتا تھا تیری یادوں کا چراغ آج بھی روشن ہے مگر اس کی لو کو کبھی آہستہ بجھایا بھی جا سکتا تھا دل نے ہر بار تری سمت پلٹ کر دیکھا اپنے قدموں کو کسی اور طرف لایا بھی جا سکتا تھا کون کہتا ہے محبت میں فقط درد ملا؟ چاہتے تو اس درد کو شعر بنایا بھی جا سکتا تھا ہم نے خاموشی کو آواز بنا رکھا ہے اپنا قصہ کسی محفل میں سنایا بھی جا سکتا تھا مگر وفا کی بھی اپنی کوئی حد ہوتی ہے ہر تعلق کو نئے نام سے نبھایا بھی جا سکتا تھا ہم نے تیرا ہی بھرم رکھا، یہی کافی ہے ورنہ دنیا میں بہت کچھ تو کمایا بھی جا سکتا تھا اب بھی ہر شام تری یاد اتر آتی ہے دل کو سمجھا کے مگر سویا بھی جا سکتا تھا بس یہی بات ہمیں عمر بھر رلاتی رہی تو نہیں تھا، مگر تجھ کو بھلایا بھی جا سکتا تھا

About