@rooh.e.reza.spo: جب میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا کہ "کیا میں تمھاری ہوں؟" تو مجھے امید تھی کہ شاید اس سوال کے جواب میں کوئی اپناپن ہوگا، کوئی ایسا لفظ جو برسوں کی تھکن اتار دے۔ مگر اس کے بدلے جو ملا، وہ ایک سرد سا جملہ تھا: "ہم دوست ہی ٹھیک ہیں... تم مجھے لباس میں زیادہ اچھی لگتی ہو!" اس ایک جملے نے جیسے پل بھر میں دنیا ہی الٹ دی۔ دوستی کا یہ لیبل لگا کر اس نے میرے جذبات کو ایک ایسے خانے میں بند کر دیا جہاں نہ کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی شکوہ کیا جا سکتا ہے۔ کتنی اذیت ناک ہوتی ہے یہ حقیقت جب کوئی آپ کو کسی رشتے کا نام دینے سے کترائے، مگر آپ کی ذات پر اپنی پسند اور ناپسند کے پہرے بٹھانا نہ بھولے۔ اور پھر وہ دوسری بات... "تم مجھے لباس میں زیادہ اچھی لگتی ہو!" یہ سن کر یوں لگا جیسے میری محبت، میری وفاداری اور میرے احساسات کی اس کی نظر میں کوئی وقعت ہی نہیں تھی۔ اس کے لیے تو میں شاید محبت کرنے والی ایک جیتی جاتی انسان نہیں، بلکہ صرف ایک ایسی تصویر تھی جو اس کی آنکھوں کو اچھی لگنی چاہیے۔ رشتے تو روحوں کا سکون ہوتے ہیں، لیکن جب کوئی آپ کو ایک خاص روپ یا ایک محدود دائرے تک ہی محدود کر دے، تو وہ رشتہ نہیں بلکہ ایک خاموش قید بن جاتا ہے۔ آج سمجھ آیا کہ ہر کسی کی زندگی میں اہم ہو جانا ضروری نہیں، خود کی عزتِ نفس کو گرا کر کسی کے فیصلوں میں جینے سے بہتر ہے کہ اس جھوٹے رشتے سے آزاد ہو جایا جائے۔ #fvp