@pmauto.official: cinematik dulu derrr biar tamba gokil jok dan owner nya yang udah ganteng 🔥🔥 #pmauto #fyp #honda #kece #cinematic

pmauto.official
pmauto.official
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 27 October 2026 12:44:25 GMT
1570
26
2
2

Music

Download

Comments

_hunter_182
slow man :
pertama min
2026-10-27 12:48:15
0
To see more videos from user @pmauto.official, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Day Of Judgement 💔 کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کی حالت کیسی ہوگی؟ وہ انسان جو آج خود کو بہت طاقتور سمجھتا ہے… جو اپنی عقل، دولت اور طاقت پر غرور کرتا ہے… قیامت کے دن وہی انسان ایک بے بس پتنگے کی طرح اِدھر اُدھر بھاگ رہا ہوگا! لیکن سوال یہ ہے… اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی مثال بکھرے ہوئے پتنگوں سے ہی کیوں دی؟ اس سوال کا جواب قرآن مجید کی سورۃ القارعہ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ یعنی: جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہو جائیں گے۔ ذرا اس آیت پر غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: النَّاسُ یعنی لوگ… تمام انسان۔ پھر فرمایا: كَالْفَرَاشِ یعنی پتنگوں کی طرح۔ اور آخر میں فرمایا: الْمَبْثُوثِ یعنی بکھرے ہوئے۔ اب کبھی رات کے اندھیرے میں کسی روشنی کے گرد اڑتے ہوئے پتنگوں کو دیکھیے۔ کوئی دائیں طرف بھاگ رہا ہوتا ہے… کوئی بائیں طرف… کوئی اوپر اڑ رہا ہوتا ہے… اور کوئی نیچے گر رہا ہوتا ہے۔ ہر طرف بے ترتیبی ہوتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اسے کس طرف جانا ہے۔ قرآن مجید قیامت کے دن انسانوں کی ایک ایسی ہی ہولناک حالت بیان کرتا ہے۔ جب قیامت کی دہشت سامنے ہوگی… تو دنیا کی طاقت، دولت اور بڑے بڑے عہدے کسی کو اس خوف سے نہیں بچا سکیں گے۔ وہ لوگ جو آج بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں… اور وہ لوگ جن کے پاس دنیا کی بے شمار دولت ہے… سب اللہ کے سامنے حاضر ہونے والے ہیں#fyp #allah #foryoupage #islamic #qayamat
Day Of Judgement 💔 کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کی حالت کیسی ہوگی؟ وہ انسان جو آج خود کو بہت طاقتور سمجھتا ہے… جو اپنی عقل، دولت اور طاقت پر غرور کرتا ہے… قیامت کے دن وہی انسان ایک بے بس پتنگے کی طرح اِدھر اُدھر بھاگ رہا ہوگا! لیکن سوال یہ ہے… اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی مثال بکھرے ہوئے پتنگوں سے ہی کیوں دی؟ اس سوال کا جواب قرآن مجید کی سورۃ القارعہ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ یعنی: جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہو جائیں گے۔ ذرا اس آیت پر غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: النَّاسُ یعنی لوگ… تمام انسان۔ پھر فرمایا: كَالْفَرَاشِ یعنی پتنگوں کی طرح۔ اور آخر میں فرمایا: الْمَبْثُوثِ یعنی بکھرے ہوئے۔ اب کبھی رات کے اندھیرے میں کسی روشنی کے گرد اڑتے ہوئے پتنگوں کو دیکھیے۔ کوئی دائیں طرف بھاگ رہا ہوتا ہے… کوئی بائیں طرف… کوئی اوپر اڑ رہا ہوتا ہے… اور کوئی نیچے گر رہا ہوتا ہے۔ ہر طرف بے ترتیبی ہوتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اسے کس طرف جانا ہے۔ قرآن مجید قیامت کے دن انسانوں کی ایک ایسی ہی ہولناک حالت بیان کرتا ہے۔ جب قیامت کی دہشت سامنے ہوگی… تو دنیا کی طاقت، دولت اور بڑے بڑے عہدے کسی کو اس خوف سے نہیں بچا سکیں گے۔ وہ لوگ جو آج بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں… اور وہ لوگ جن کے پاس دنیا کی بے شمار دولت ہے… سب اللہ کے سامنے حاضر ہونے والے ہیں#fyp #allah #foryoupage #islamic #qayamat

About