یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا ہڑا
اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا
صرف ایک تلخ بات سنانے سے پیشتر
کانوں میں پھول پھول کا رس گھولنا پڑا
اپنے خطوں کے لفظ جلانے پڑے مجھے
شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا
خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم
پھولوں کو اپنا بند قبا کھولنا پڑا
کتنی عزیز تھی تیری آنکھوں کی دلبری
محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا
سنتے تھے اس کے بزمِ سخن ناشناس ھے
محسن ہمیں وہاں بھی سخن تولنا پڑا
محسن نقوی
2026-10-27 20:55:47
0
To see more videos from user @kelashnikamo, please go to the Tikwm
homepage.