@___b_____m_____w___: _ترجمه " _ لم أبدأ من الصفر… بدأت من الخبرة ... ___🎬📹🎥😎😎🔥🔥👌😉✌️ #B____M____W #B____M____W #تيكتوك_عربي #شعب_الصيني_ماله_حل😂😂 #fbyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyy

Ahmed 😉😎✌
Ahmed 😉😎✌
Open In TikTok:
Region: DZ
Tuesday 27 October 2026 21:55:39 GMT
6986
168
12
94

Music

Download

Comments

raluka.daniela
Raluka Daniela :
2026-10-28 11:04:52
1
zeynebdefne
Zeynebdefne :
2026-10-28 12:54:03
0
milenafidan
milenafidan :
🔥🔥🔥🔥🔥
2026-10-28 14:20:10
2
fatimax410
fatima❤️❤️ :
برافو 👏👈👑💋
2026-10-28 18:25:39
1
gloriadelgado2787
Bruni :
2026-10-27 21:59:47
1
maddalenadipuorto5
maddy :
[Commovente][Commovente][Commovente]
2026-10-28 09:36:06
1
To see more videos from user @___b_____m_____w___, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میان محمد بخشؒ کے اس کلام میں صحبتِ اہلِ درد کا ایک نہایت گہرا راز پوشیدہ ہے۔ اہلِ دل کی صحبت عطّار کی اس دُکان کی مانند ہے جہاں خوشبو خریدنے والے ہی نہیں، قریب آنے والے بھی مہک سے خالی نہیں لوٹتے۔ اسی طرح جس دل میں عشقِ الٰہی کی خوشبو بسی ہو، اس کے قریب بیٹھنا بھی اپنے اندر ایک خاموش فیض رکھتا ہے۔ یہاں “سودا” دل کا سودا ہے  —  وہ سودا جس میں انسان دنیا سے نہیں، اپنے غفلت بھرے باطن سے دستبردار ہونے لگتا ہے۔  کبھی ایک خاموشی، ایک آہ، یا کسی اہلِ ذکر، اہلِ فراست کی نظر، دل کے اندر دفن طلب کو بیدار کر دیتی ہے۔ انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کب دل کی سمت بدل گئی، کب غفلت بوجھ بن گئی اور کب اللہ کی یاد کی پیاس جاگ اٹھی۔ اہلِ درد کی صحبت کا اصل فیض الفاظ سے زیادہ کیفیت کا فیض ہے؛ دل جس دل کے قریب بیٹھتا ہے، آہستہ آہستہ اسی کا رنگ قبول کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے سچی صحبت وہ ہے جو انسان کو اپنے آپ سے نکال کر اپنے رب کی طرف متوجہ کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے ۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے، ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا لو گے۔  لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔ 📚 صحیح البخاری، 2101 📚 صحیح مسلم، 2628
میان محمد بخشؒ کے اس کلام میں صحبتِ اہلِ درد کا ایک نہایت گہرا راز پوشیدہ ہے۔ اہلِ دل کی صحبت عطّار کی اس دُکان کی مانند ہے جہاں خوشبو خریدنے والے ہی نہیں، قریب آنے والے بھی مہک سے خالی نہیں لوٹتے۔ اسی طرح جس دل میں عشقِ الٰہی کی خوشبو بسی ہو، اس کے قریب بیٹھنا بھی اپنے اندر ایک خاموش فیض رکھتا ہے۔ یہاں “سودا” دل کا سودا ہے — وہ سودا جس میں انسان دنیا سے نہیں، اپنے غفلت بھرے باطن سے دستبردار ہونے لگتا ہے۔ کبھی ایک خاموشی، ایک آہ، یا کسی اہلِ ذکر، اہلِ فراست کی نظر، دل کے اندر دفن طلب کو بیدار کر دیتی ہے۔ انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کب دل کی سمت بدل گئی، کب غفلت بوجھ بن گئی اور کب اللہ کی یاد کی پیاس جاگ اٹھی۔ اہلِ درد کی صحبت کا اصل فیض الفاظ سے زیادہ کیفیت کا فیض ہے؛ دل جس دل کے قریب بیٹھتا ہے، آہستہ آہستہ اسی کا رنگ قبول کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے سچی صحبت وہ ہے جو انسان کو اپنے آپ سے نکال کر اپنے رب کی طرف متوجہ کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے ۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے، ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا لو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔ 📚 صحیح البخاری، 2101 📚 صحیح مسلم، 2628

About