@fasi.184: اشرف المخلوقات ! کا نام سُن کر، ہم خود کو، اعلیٰ درجے کی مخلوق، سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ہم کو تو , قرآن میں، "شرالدواب" یعنی، دو پیروں والا، جانور کہا گیا ہے ـ 🌸✨ #foryou #foryoupage #urdupoetry #viewsproblem #unfreezemyacount
تو اس نے یہ بھی تو کہا ہے ( لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم)
2026-10-28 11:12:17
8
Hamza shahbaz6351🌄 :
:شَرَالدَوَآبِّعِنْدَاللّٰهِ الصُمُالْبُكْمُالَذِیْنَلَا یَعْقِلُوْنَترجمہ: "بیشک اللہ کے نزدیک سب جانداروں میں بدتر وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔" (یعنی وہ لوگ جو حق بات کو سننے اور سمجھنے سے محروم رہیں)۔
2026-10-28 09:21:41
13
Zubair Zubbi :
Allah ka naiab kaha gia hay.
kahen b ashraf ul makhlokat nai kaha gia
2026-10-28 14:51:53
2
IbrahiM Khawar :
Yha un logon ko mention kiya gya hai Jo Haq such ko janty hue b nhi maanty
2026-10-28 15:57:29
2
Mahir Ishtiaq :
اشرف المخلوقات کہیں نہیں آیا
2026-10-28 12:25:52
3
Beenish Beeni :
one more meaning about Shar ud dawab, badtareen khaliq
2026-10-28 14:36:04
1
Sardar S K :
قرآن میں لفظ شَرّالدّوَابِّ سورۃ الانفال، آیت 22 میں آیا ہے، جس کا مطلب ہے بدترین جاندار۔ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو حق سننے اور سمجھنے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن نے تمام انسانوں کو دو پیروں والا جانور کہا ہے۔
اس شعر کا اصل پیغام: انسان کی بڑائی اس کے نام یا شکل میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، رحم دلی اور اعمال میں ہے۔
2026-10-28 15:51:54
0
Hamza shahbaz6351🌄 :
سورہ الانفال، آیت: 22)
2026-10-28 14:40:30
1
zeshankhan1757675 :
یہ آیت سورۃ الاسراء (سورة بنی اسرائیل) کی آیت نمبر 70 ہے:
وَلَقَدْكَرّمْنَا بَنِي آدَمَوَحَمَلْنَاهُمْفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَالطّيِّبَاتِ وَفَضّلْنَاهُمْعَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمّنْخَلَقْنَا تَفْضِيلًا
ترجمہ:
اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا، اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، اور انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر واضح برتری عطا کی۔
آپ نے جو مفہوم بیان کیا ہے وہ بالکل اسی آیت کا ہے:
«ہم نے انسان کو کثیر مخلوقات پر برتری بخشی»۔
اس کا مطلب کہ انسان کو کافی مخلوقات پر برتری بخشی نا کہ انسان کو سب مخلوقات پھر فوقیت دی
2026-10-28 14:53:07
1
𝙼𝚎𝚑𝚋𝚘𝚘𝚋 𝙼𝚊𝚕𝚒𝚔 :
❤️❤️❤️
2026-10-28 10:21:18
1
🇵🇰 :
اس تصویر میں جو لکھا ہے وہ آدھا سچ اور آدھا غلط فہمی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:
*تصویر پر لکھا ہے:*
> اشرف المخلوقات کا نام سُن کر ہم خود کو اعلی درجے کی مخلوق سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ہم کو تو قرآن میں شرالدواب یعنی دو پیروں والا جانور کہا گیا ہے
*اصل حقیقت:*
*1. "اشرف المخلوقات" قرآن کا لفظ نہیں:*
یہ لفظ قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ یہ علماء کی اصطلاح ہے۔ قرآن میں آیا ہے:
*"وَلَقَدْكَرَمْنَا بَنِي آدَمَ"* (بنی اسرائیل: 70) یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی۔ اسی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔
*2. "شر الدواب" کا مطلب "دو پیروں والا جانور" نہیں ہے:*
قرآن میں دو جگہ یہ لفظ آیا ہے:
- *سورہ انفال آیت 22:* `اِنّشَرّالدّوَآبِّ عِنۡدَاللّٰہِ الصّمّالۡبُکۡمُالّذِیۡنَلَا یَعۡقِلُوۡنَ`
ترجمہ: اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
- *سورہ انفال آیت 55:* `اِنّشَرّالدّوَآبِّ عِنۡدَاللّٰہِ الّذِیۡنَکَفَرُوۡا`
ترجمہ: اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا۔
یہاں *"دواب"* کا مطلب زمین پر چلنے والی ہر جاندار چیز ہے، اور *"شر الدواب"* کا مطلب ہے "سب سے برے جاندار"۔ اللہ نے یہ گالی کے طور پر نہیں بلکہ *ان انسانوں کے لیے* کہا ہے جو آنکھ، کان، عقل رکھنے کے باوجود حق کو نہیں سمجھتے۔
*خلاصہ:*
انسان پیدائشی طور پر اشرف ہے، لیکن جب وہ عقل، علم اور ایمان کو چھوڑ دیتا ہے تو قرآن کے مطابق وہی انسان جانوروں سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔ جیسا کہ سورہ اعراف میں ہے: `اُولٰٓئِکَکَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلّ` وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔
2026-10-28 14:12:16
3
To see more videos from user @fasi.184, please go to the Tikwm
homepage.