@ameer.hamza80159: افسوسناک واقعہ افتخار حسین چوہدری، جو میراہ چھپراں کے رہائشی تھے، ایک محنتی اور دیانت دار انسان تھے۔ وہ سینئر مدرس ذوالفقار حسین چوہدری اور غضنفر حسین چوہدری (فش شاپ والے) کے چھوٹے بھائی تھے۔ مرحوم الیکٹریشن تھے اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز آڑہ جٹاں کے مقام پر کام کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ایک ملک فیملی کے گھر کام مکمل کرنے کے بعد جب انہوں نے اپنی مزدوری طلب کی تو مبینہ طور پر وہاں موجود ایک پولیس اہلکار، جسے اپنی وردی کا رعب تھانے مزدوری دینے سے انکار کیا اور افتخار حسین پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں ان کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایک ایسے سنگین واقعے کو واضح طور پر بیان کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر مبہم سی پوسٹیں دیکھنے کو ملیں۔ پولیس اہلکار اور اس ظلم میں مبینہ طور پر شامل دیگر افراد کے نام تک کسی نے نہیں لیے۔ مجھے ان افراد کے نام معلوم نہیں، ورنہ ضرور لکھتا۔ نہ ہی کسی صحافی کی جانب سے ملزمان کی حوالات میں موجود تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملیں۔ اس رویے پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ میری ایک گزارش ہے ان لوگوں سے ہے جو بااثر ہیں، صاحبِ اقتدار ہیں اور جن کی بات سنی جاتی ہے۔ خدارا، جب کوئی قتل ہو جائے تو یہ سوچ کر ملزمان کی حمایت نہ کریں کہ وہ آپ کا ووٹر، عزیز یا جاننے والا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی نے ملزمان کی حمایت کی ہے، لیکن اگر کوئی ایسا کرے گا تو یہ بھی سامنے آ جائے گا۔ خدارا! سیاست کریں، اپنے تعلقات نبھائیں، لیکن کسی سنگین جرم کے ملزمان کو ذاتی تعلقات یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر تحفظ نہ دیں۔ اگر کسی نے ناحق ایک انسان کی جان لی ہے تو اس معاملے میں کسی قسم کی سفارش یا مداخلت کے بجائے شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ ایک محنت کش کی جان چلی گئی،اب کم از کم اس خاندان کو انصاف ملنے دیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔