@nimi22432: ہم ہر روز اس کے در پر جبینِ نیاز تو ٹیکتے ہیں، لیکن دل کا بیدار نہ ہونا اور صانع کے بجائے محض اس کی بنائی ہوئی نعمتوں — یعنی جنت، حور اور ثواب — کی طلب میں محو رہنا ہماری بندگی کو ایک بے روح رسم بنا دیتا ہے۔ اگر گھر پہنچ کر صاحبِ خانہ سے ہی ملاقات نہ ہو، اور صرف نفع و نقصان یا طلبِ جزا کے لیے چوروں کی طرح اندھیروں میں سجدے کر کے لوٹ آیا جائے، تو ایسی حاضری محض ایک دھوکا ہے۔ سچی بندگی اور معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دنیا اور عقبیٰ کے تمام حجابوں سے بلند ہو کر صرف اور صرف ذاتِ الٰہی کی جستجو کرے، کیونکہ جب تک عبادت میں طلبِ محبوب کے بجائے طلبِ جنت کا غلبہ رہے گا، تب تک روح کو وہ حقيقي وصال اور بیداری نصیب نہیں ہو سکتی جو کسی سچے عاشقِ الٰہی کا اصل حاصل ہے۔ طَابَ رُوحُ مُحَمَّدٍ ﷺ