@_lune_86: کچھ لوگوں کے رویّے انسان کو اتنا غصہ نہیں دلاتے جتنا اُن کا ہمیں نہ سمجھنا دلاتا ہے۔ بار بار اپنی نیت، اپنی خاموشی اور اپنے احساسات کی وضاحت کرتے کرتے انسان اندر سے تھک جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب دل میں بہت کچھ ہوتا ہے، مگر کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔ عجیب بات ہے کہ انسان اُنہی سے سب سے زیادہ خفا ہوتا ہے جن سے کبھی خود کو سمجھ لیے جانے کی امید رکھی ہو۔ اور یہی غصہ آہستہ آہستہ خاموشی بن جاتا ہے، کیونکہ انسان ہر بار خود کو بے قصور ثابت کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔