@ramywamyfinds: Cancel your massage and grab the Flamingo set!!

RamyWamyFinds
RamyWamyFinds
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 29 October 2026 02:44:00 GMT
46
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ramywamyfinds, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم رشتوں کے حقوق پر بات تو بہت کرتے ہیں، لیکن جب ان حقوق کو عملی طور پر ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو ہماری سوچ اور رویے بدل جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے والدین کو عزت، محبت، توجہ اور سہارا ملے، لیکن اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی توقعات ان لوگوں کے والدین کی بھی ہوتی ہیں جو ہمارے خاندان کا حصہ بنتے ہیں۔ بیٹی کے لیے اپنے ماں باپ سے محبت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا یقیناً ایک خوبصورت جذبہ ہے۔ لیکن شادی کے بعد ساس سسر کے ساتھ بھی عزت، شفقت اور حسنِ سلوک کا معاملہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح بیٹوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے والدین کو عزت دیں اور ان کی ضروریات اور جذبات کا احترام کریں۔ رشتوں میں ذمہ داری یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں اکثر والدین اپنی اولاد کی پرورش اس امید پر کرتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہی اولاد ان کا سہارا بنے گی، لیکن افسوس کہ بعض اوقات شادی کے بعد یہی اولاد اپنی ترجیحات میں اتنی الجھ جاتی ہے کہ والدین کی ضروریات، تنہائی اور جذبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کہیں بہو کو ساس سسر بوجھ محسوس ہوتے ہیں، کہیں داماد اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتا ہے، اور کہیں بیٹا اپنی بیوی اور والدین کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ البتہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر اولڈ ہوم میں رہنے والے والدین کو ان کی اولاد نے بے سہارا نہیں چھوڑا ہوتا۔ بعض والدین اپنی مرضی سے بھی وہاں رہتے ہیں، جبکہ بعض حالات میں اولاد کے پاس مناسب دیکھ بھال کی سہولت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر خاندان اور ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ اصل مسئلہ بیٹی یا بہو، بیٹے یا داماد کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا ہے۔ ہم اپنے والدین کے لیے جس احترام، برداشت اور محبت کی توقع دوسروں سے رکھتے ہیں، وہی رویہ ہمیں دوسروں کے والدین کے ساتھ بھی اپنانا چاہیے۔ کسی کی بیٹی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہمارے والدین کو اپنے والدین جیسا مقام دے، تبھی منصفانہ ہے جب ہم بھی اپنے بیٹوں کو دوسروں کے والدین کا احترام کرنا سکھائیں۔ رشتے حقوق مانگنے سے نہیں، ذمہ داریاں نبھانے سے خوبصورت بنتے ہیں۔ والدین کسی کے بھی ہوں، ان کی عزت، جذبات اور بڑھاپے کی ضروریات اہم ہیں۔ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت ایسی کرنی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کو بھی بوجھ نہ سمجھے اور اپنے شریکِ حیات کے والدین کو بھی محض ایک اضافی ذمہ داری نہ سمجھے۔ معاشرے میں تبدیلی اس دن آئے گی جب ہم یہ سوال کرنا چھوڑ دیں گے کہ میرے والدین کی خدمت کون کرے گا، اور یہ سوچنا شروع کریں گے کہ میں خود دوسروں کے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کر رہا ہوں۔ #fyp #foryoupage #viralvideo #urduquotes #urdupoetry
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم رشتوں کے حقوق پر بات تو بہت کرتے ہیں، لیکن جب ان حقوق کو عملی طور پر ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو ہماری سوچ اور رویے بدل جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے والدین کو عزت، محبت، توجہ اور سہارا ملے، لیکن اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی توقعات ان لوگوں کے والدین کی بھی ہوتی ہیں جو ہمارے خاندان کا حصہ بنتے ہیں۔ بیٹی کے لیے اپنے ماں باپ سے محبت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا یقیناً ایک خوبصورت جذبہ ہے۔ لیکن شادی کے بعد ساس سسر کے ساتھ بھی عزت، شفقت اور حسنِ سلوک کا معاملہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح بیٹوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے والدین کو عزت دیں اور ان کی ضروریات اور جذبات کا احترام کریں۔ رشتوں میں ذمہ داری یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں اکثر والدین اپنی اولاد کی پرورش اس امید پر کرتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہی اولاد ان کا سہارا بنے گی، لیکن افسوس کہ بعض اوقات شادی کے بعد یہی اولاد اپنی ترجیحات میں اتنی الجھ جاتی ہے کہ والدین کی ضروریات، تنہائی اور جذبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کہیں بہو کو ساس سسر بوجھ محسوس ہوتے ہیں، کہیں داماد اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتا ہے، اور کہیں بیٹا اپنی بیوی اور والدین کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ البتہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر اولڈ ہوم میں رہنے والے والدین کو ان کی اولاد نے بے سہارا نہیں چھوڑا ہوتا۔ بعض والدین اپنی مرضی سے بھی وہاں رہتے ہیں، جبکہ بعض حالات میں اولاد کے پاس مناسب دیکھ بھال کی سہولت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر خاندان اور ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ اصل مسئلہ بیٹی یا بہو، بیٹے یا داماد کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا ہے۔ ہم اپنے والدین کے لیے جس احترام، برداشت اور محبت کی توقع دوسروں سے رکھتے ہیں، وہی رویہ ہمیں دوسروں کے والدین کے ساتھ بھی اپنانا چاہیے۔ کسی کی بیٹی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہمارے والدین کو اپنے والدین جیسا مقام دے، تبھی منصفانہ ہے جب ہم بھی اپنے بیٹوں کو دوسروں کے والدین کا احترام کرنا سکھائیں۔ رشتے حقوق مانگنے سے نہیں، ذمہ داریاں نبھانے سے خوبصورت بنتے ہیں۔ والدین کسی کے بھی ہوں، ان کی عزت، جذبات اور بڑھاپے کی ضروریات اہم ہیں۔ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت ایسی کرنی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کو بھی بوجھ نہ سمجھے اور اپنے شریکِ حیات کے والدین کو بھی محض ایک اضافی ذمہ داری نہ سمجھے۔ معاشرے میں تبدیلی اس دن آئے گی جب ہم یہ سوال کرنا چھوڑ دیں گے کہ میرے والدین کی خدمت کون کرے گا، اور یہ سوچنا شروع کریں گے کہ میں خود دوسروں کے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کر رہا ہوں۔ #fyp #foryoupage #viralvideo #urduquotes #urdupoetry

About