@lukaaclipp: terimakasih kepada mahasiswa dan relawan yang sudah menyampaikan pesan yang sebenarnya. Kawal terus dinamika aksi rakyat hari ini! ​#orasirakyat #bundaranhi #aspirasiMK #motionklip #ezklip

Lukaaclipp
Lukaaclipp
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 29 October 2026 02:18:20 GMT
214203
23501
630
408

Music

Download

Comments

sunyi.senyap13
Sunyi senyap :
love you all
2026-10-31 17:25:21
0
nurulkasan84
Nurmon :
respectfull
2026-10-31 12:20:13
0
sidabutar_98
S1D@BuT@R_98 :
good luck👍👍👍👍👍👍👍👍
2026-10-30 12:25:05
0
ganesh_4552
Ganesh_4552 :
We proud of you guys !! ❤️
2026-10-30 14:59:24
0
saputrasmoke
gaskan mi :
pemerintah bangsat
2026-10-30 13:47:39
101
renggajulmahendri99
renggajulmahendri99 :
respeck🙌🔥
2026-10-30 15:04:27
0
azzam.alfred
Azzam Alfred :
semenjak jaman Prabowo rakyat dh brpa x demo ya..semoga 2029 cepet berlalu biar turun it si Wowo..
2026-10-29 02:59:46
361
devi.novia
devinovia :
tau ga si kenapa bangsa ini tetap berdiri kokoh,,karena ada pemuda2 hebat di dalamnya
2026-10-29 04:49:34
197
iyus.abun
iyus abun :
semoga kalian yg berjuang mensuarakan ketidak Adilan ini,di beri kesehatan dan perlindungan,💪
2026-10-29 03:53:56
88
melviano_mz.al
PaPa_AL :
Alhamdulillah sudah terwakilkan sama kawan"ku semua yg ada di Jakarta trimakasih kawan" ku semua 👍
2026-10-29 04:25:48
71
babbooome
butterscotchhh :
terimakasii temen² jaga diri kalian yaaa😭
2026-10-29 03:14:07
60
r.rendraadinugroho
Rendra Adi Nugroho :
Terima kasih Mahasiswa... Mungkin masa kami telah lewat, kami titipkan perjuangan ini. Kembalikan Harkat Martabat dan Marwah Negeri ini agar Indonesia Lekas Sembuh dan Lepas dari Kungkungan Kedzoliman.
2026-10-30 21:50:34
8
renjanaaaa_aaa
Renjana :
ayoooo lengserin demi apa ayooooo lengserin 😭
2026-10-29 03:00:52
53
nienapasaribuv
Maria :
Jaga diri kalian semua Anak"ku Tuhan memberkati 💪🏻
2026-10-29 03:33:10
20
abimaungpersib
Persib Maung Bandung :
MBG BIKIN RAKYAT SENGSARA , PEJABAT PEJABAT MAKIN KAYA
2026-10-29 03:52:03
12
hendriyulianto3
Hendri Yulianto :
terimakasih dari kami rakyat indonesia untukmu para pejuang keadilan 🙏🫶🫶
2026-10-30 10:30:12
9
shese.sc
Shesee :
aku yakin disetiap perjuangan tidak ada kata sia-sia didalamnya
2026-10-29 04:07:13
10
cah.mbelink5
Cah Mbelink :
teruskan sampek dunia tau kebusukan negara ini
2026-10-29 05:02:23
9
kopipemersatubangsa
KopiPemersatuBangsa.official :
Panjang umur PERJUANGAN. HIDUP MAHASISWA🔥🔥🔥💪🏿💪🏿💪🏿
2026-10-29 05:09:00
8
green.teaa99
Greenteaa🍃 :
Makasih banyak yaahh 🫶🏻 aku yg cuma irt ini dan tinggal di kampung, terimakasih sekali buat kalian yg ikut suarakan yg kami keluhkan selama ini, sehat2 yah kalian🥺
2026-10-29 05:30:11
6
blacksweet834
Black Sweet Ambones :
UNTUK INDONESIA YANG LEBIH BAIK. SAAT NYA KESADARAN RAKYAT MERUNTUHKAN KETIDAK WARASAN PEMERINTAH YANG MEMBUAT RAKYAT SEMAKIN MUAK DENGAN KESENGSARAAN DALAM BALUTAN KEBIJAKAN. SALAM SADAR 👏👏👏
2026-10-29 03:43:13
23
lingtry0
Lingtry :
Terimakasih untuk semua mahasiswa dan yg mendukung menyuarakan suara rakyat
2026-10-30 06:00:20
7
s.corpio89
arthashope99 :
Terimakasih ya buat kalian.. yg berjuang … Berharap Perjuangan dna usaha kalian di dengar, dengan Campur tangan Tuhan.. amminnnn😇😇😇
2026-10-29 04:10:51
7
denty583
denty :
semangat kakak.. moga lelahmu menjadi berkah yang berlimpah.. sehat selalu.. kita ikut demo jalur doa.. 🤲🤲🤲🤲❤
2026-10-29 03:44:17
13
ryo.brandalz
Ryo Brandalz 88 :
perlawanan belum berakhir 🔥
2026-10-31 03:05:21
8
To see more videos from user @lukaaclipp, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیر اور محسود قبائل کی تفصیلی تاریخ دونوں پشتون قبائل ہیں اور کرلانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ زبانی شجروں کے مطابق وزیر اور محسود آپس میں قریبی نسب رکھتے ہیں۔ دونوں پہلے برمل کے علاقے (موجودہ پکتیکا، افغانستان) میں رہتے تھے۔ تقریباً پندرھویں سے سولہویں صدی کے دوران وہ مشرق کی طرف منتقل ہوئے اور ٹوچی اور گومل دریاؤں کے درمیانی پہاڑی علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انہوں نے بھٹنی اور کانیگرم کے اورمڑ (برکی) جیسے پہلے سے آباد لوگوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ وزیر قبیلہ - **عثمان زئی وزیر** زیادہ تر شمالی وزیرستان میں رہتے ہیں (ٹوچی وادی، رزمک، میران شاہ، سپین وام)۔ ان کی شاخوں میں **طوری خیل**، حسن خیل، کبل خیل اور مداخیل شامل ہیں۔ - **احمد زئی وزیر** زیادہ تر جنوبی وزیرستان میں وانا کے اردگرد آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں زلی خیل، کالو خیل اور گنگی خیل ہیں۔ - دونوں درویش خیل شاخ سے ہیں۔ ان کا معاشرہ مساوات پر مبنی تھا، فیصلے جرگے میں ہوتے تھے، ملکوں اور بزرگوں کا اثر تھا اور غیرت و بدلے کا سخت ضابطہ چلتا تھا۔ محسود قبیلہ - یہ جنوبی وزیرستان میں مکین، لدھا، سراروغہ، کانیگرم اور شہور و شکتوئی کی وادیوں میں آباد ہیں۔ - ان کی تین بڑی شاخیں **علی زئی، بہلول زئی اور شمن خیل** ہیں۔ - یہ اپنی جنگجوئی کے لیے مشہور تھے اور چراگاہوں، زمین اور پانی پر پڑوسی وزیروں سے اکثر ان کے جھگڑے ہوتے تھے۔ ان کی معیشت گلہ بانی، تجارت اور تاریخی طور پر میدانی علاقوں پر چھاپوں سے جڑی تھی۔ مغل اور ابتدائی دور دونوں قبائل پر نہ مغلوں کی اور نہ بعد کے افغان حکمرانوں کی حقیقی حکومت قائم ہوئی۔ وہ باقاعدہ محصول نہیں دیتے تھے اور اپنے معاملات خود چلاتے تھے۔ سولہویں صدی میں بایزید انصاری کی روشانی تحریک کو اس علاقے میں حمایت ملی۔  برطانوی دور - **1849ء سے 1860ء کی دہائی:** پنجاب کے الحاق کے بعد میدانی علاقوں پر قبائلی حملے مسلسل مسئلہ بنے رہے۔ 1860ء میں محسودوں کے ٹانک پر حملے کے بعد تادیبی مہم چلائی گئی۔ - **1893ء:** ڈیورنڈ لائن نے قبائل کو برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ - **1894ء:** وزیروں نے وانا میں افغان-برطانوی سرحدی کمیشن کے کیمپ پر حملہ کیا۔ - **1897ء:** سرحد پر وسیع بغاوت شروع ہوئی، جس میں ٹوچی وادی کے مائزر کے مقام پر مداخیل وزیروں کا حملہ بھی شامل تھا۔ - **1900ء تا 1902ء:** بار بار کے چھاپوں کے بعد محسودوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ **ملا پوندہ** (ملا محمد عبداللہ) 1913ء میں اپنی وفات تک ان کی مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ - **1901ء:** فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ ہوا، جس میں اجتماعی سزا، پولیٹیکل ایجنٹ اور قبائلی لیویز شامل تھے۔ - **1919ء تا 1920ء:** تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران وزیرستان میں بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے 1923ء میں **رزمک** میں بڑی چھاؤنی بنائی اور قبائل کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال شروع کیا۔ - **1936ء تا 1947ء:** **فقیر آف ایپی** (مرزا علی خان، طوری خیل وزیر) نے اسلام بی بی کیس کے بعد طویل گوریلا جنگ لڑی۔ برطانیہ نے ہزاروں فوجی تعینات کیے مگر انہیں مکمل طور پر دبا نہ سکا۔  1947ء کے بعد قبائل پاکستان میں شامل ہو گئے اور بہت سے وزیر اور محسود جنگجوؤں نے 1947-48ء کی کشمیر جنگ میں حصہ لیا۔ وزیرستان ایف اے ٹی اے کے حصے کے طور پر ایف سی آر کے تحت رہا، اور 1974ء میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم ہو گیا۔ علاقے میں ترقی بہت کم ہوئی اور ایف سی آر کئی دہائیوں تک نافذ رہا۔ @𝐊𝐢𝐧𝐠 𝐊𝐡𝐚𝐧🥀 @Mashahoor khan @Bakhtayoor Khan🎭💀🦇   #wazir #maseed #HistoryTime #1900 #old
وزیر اور محسود قبائل کی تفصیلی تاریخ دونوں پشتون قبائل ہیں اور کرلانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ زبانی شجروں کے مطابق وزیر اور محسود آپس میں قریبی نسب رکھتے ہیں۔ دونوں پہلے برمل کے علاقے (موجودہ پکتیکا، افغانستان) میں رہتے تھے۔ تقریباً پندرھویں سے سولہویں صدی کے دوران وہ مشرق کی طرف منتقل ہوئے اور ٹوچی اور گومل دریاؤں کے درمیانی پہاڑی علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انہوں نے بھٹنی اور کانیگرم کے اورمڑ (برکی) جیسے پہلے سے آباد لوگوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ وزیر قبیلہ - **عثمان زئی وزیر** زیادہ تر شمالی وزیرستان میں رہتے ہیں (ٹوچی وادی، رزمک، میران شاہ، سپین وام)۔ ان کی شاخوں میں **طوری خیل**، حسن خیل، کبل خیل اور مداخیل شامل ہیں۔ - **احمد زئی وزیر** زیادہ تر جنوبی وزیرستان میں وانا کے اردگرد آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں زلی خیل، کالو خیل اور گنگی خیل ہیں۔ - دونوں درویش خیل شاخ سے ہیں۔ ان کا معاشرہ مساوات پر مبنی تھا، فیصلے جرگے میں ہوتے تھے، ملکوں اور بزرگوں کا اثر تھا اور غیرت و بدلے کا سخت ضابطہ چلتا تھا۔ محسود قبیلہ - یہ جنوبی وزیرستان میں مکین، لدھا، سراروغہ، کانیگرم اور شہور و شکتوئی کی وادیوں میں آباد ہیں۔ - ان کی تین بڑی شاخیں **علی زئی، بہلول زئی اور شمن خیل** ہیں۔ - یہ اپنی جنگجوئی کے لیے مشہور تھے اور چراگاہوں، زمین اور پانی پر پڑوسی وزیروں سے اکثر ان کے جھگڑے ہوتے تھے۔ ان کی معیشت گلہ بانی، تجارت اور تاریخی طور پر میدانی علاقوں پر چھاپوں سے جڑی تھی۔ مغل اور ابتدائی دور دونوں قبائل پر نہ مغلوں کی اور نہ بعد کے افغان حکمرانوں کی حقیقی حکومت قائم ہوئی۔ وہ باقاعدہ محصول نہیں دیتے تھے اور اپنے معاملات خود چلاتے تھے۔ سولہویں صدی میں بایزید انصاری کی روشانی تحریک کو اس علاقے میں حمایت ملی۔ برطانوی دور - **1849ء سے 1860ء کی دہائی:** پنجاب کے الحاق کے بعد میدانی علاقوں پر قبائلی حملے مسلسل مسئلہ بنے رہے۔ 1860ء میں محسودوں کے ٹانک پر حملے کے بعد تادیبی مہم چلائی گئی۔ - **1893ء:** ڈیورنڈ لائن نے قبائل کو برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ - **1894ء:** وزیروں نے وانا میں افغان-برطانوی سرحدی کمیشن کے کیمپ پر حملہ کیا۔ - **1897ء:** سرحد پر وسیع بغاوت شروع ہوئی، جس میں ٹوچی وادی کے مائزر کے مقام پر مداخیل وزیروں کا حملہ بھی شامل تھا۔ - **1900ء تا 1902ء:** بار بار کے چھاپوں کے بعد محسودوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ **ملا پوندہ** (ملا محمد عبداللہ) 1913ء میں اپنی وفات تک ان کی مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ - **1901ء:** فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ ہوا، جس میں اجتماعی سزا، پولیٹیکل ایجنٹ اور قبائلی لیویز شامل تھے۔ - **1919ء تا 1920ء:** تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران وزیرستان میں بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے 1923ء میں **رزمک** میں بڑی چھاؤنی بنائی اور قبائل کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال شروع کیا۔ - **1936ء تا 1947ء:** **فقیر آف ایپی** (مرزا علی خان، طوری خیل وزیر) نے اسلام بی بی کیس کے بعد طویل گوریلا جنگ لڑی۔ برطانیہ نے ہزاروں فوجی تعینات کیے مگر انہیں مکمل طور پر دبا نہ سکا۔ 1947ء کے بعد قبائل پاکستان میں شامل ہو گئے اور بہت سے وزیر اور محسود جنگجوؤں نے 1947-48ء کی کشمیر جنگ میں حصہ لیا۔ وزیرستان ایف اے ٹی اے کے حصے کے طور پر ایف سی آر کے تحت رہا، اور 1974ء میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم ہو گیا۔ علاقے میں ترقی بہت کم ہوئی اور ایف سی آر کئی دہائیوں تک نافذ رہا۔ @𝐊𝐢𝐧𝐠 𝐊𝐡𝐚𝐧🥀 @Mashahoor khan @Bakhtayoor Khan🎭💀🦇 #wazir #maseed #HistoryTime #1900 #old

About