فردِ واحد سے لے کر تمام وہ لوگ جو آپ کی زندگی سے وابستہ ہے اور ہر ایک کی عادت دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے بس اسی لیے آپ ایک اکیلے کو ہر اس شخص کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے جیسے اس کی عادت۔۔۔اگر آپ اس کے مطابق رویہ نہیں رکھو گے تو آپ کی بات پوری ہوتی ہے کیکٹرز کے پودے پہ گلاب نہیں ہوتا اس لیے ہم ایک انسان کو لاکھوں رویوں کا سامنا ہوتا ہے اب لاکھوں افراد یہ نہیں سمجھتے کہ ایک انسان کیسے لاکھوں لوگوں سے اپنی زندگی مینج کرتا ہو گا