@haiiyennn_05: Team nhận ra chiếc váy này dơ tay #haiyen_05

Hải Yến Nè
Hải Yến Nè
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 29 October 2026 03:24:54 GMT
4556
172
2
7

Music

Download

Comments

user1322011_
user91322834113 :
2026-10-29 04:50:13
1
khoai.ty4948
Khoai Tây :
2026-11-01 04:30:27
0
To see more videos from user @haiiyennn_05, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سورہ المائدہ آیات 61 تا 67 - تفسیر کا خلاصہ یہ آیات منافقین اور اہل کتاب، خاص طور پر یہود کی سازشوں، ان کے اخلاقی زوال اور نبی کریم ﷺ کو تبلیغ کا حکم کے بارے میں ہیں۔ آیت 61-62 ترجمہ: اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر: یہ منافقین کا ذکر ہے۔ تفسیر احسن البیان میں ہے کہ یہ نبی ﷺ کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں، آپ ﷺ کی صحبت اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے اور حاضری سے مقصد ہدایت نہیں بلکہ دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد لکھتے ہیں یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آل عمران آیت 72 میں آیا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ، وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں، ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔ آیت 62-63 ترجمہ: اور تم دیکھو گے کہ ان میں سے اکثر گناہ، زیادتی اور حرام خوری میں دوڑ دوڑ کر شریک ہوتے ہیں، یقیناً بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ انہیں ان کے علماء اور مشائخ گناہ کی باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے، یقیناً بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ تفسیر: ابن کثیر فرماتے ہیں:
سورہ المائدہ آیات 61 تا 67 - تفسیر کا خلاصہ یہ آیات منافقین اور اہل کتاب، خاص طور پر یہود کی سازشوں، ان کے اخلاقی زوال اور نبی کریم ﷺ کو تبلیغ کا حکم کے بارے میں ہیں۔ آیت 61-62 ترجمہ: اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر: یہ منافقین کا ذکر ہے۔ تفسیر احسن البیان میں ہے کہ یہ نبی ﷺ کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں، آپ ﷺ کی صحبت اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے اور حاضری سے مقصد ہدایت نہیں بلکہ دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد لکھتے ہیں یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آل عمران آیت 72 میں آیا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ، وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں، ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔ آیت 62-63 ترجمہ: اور تم دیکھو گے کہ ان میں سے اکثر گناہ، زیادتی اور حرام خوری میں دوڑ دوڑ کر شریک ہوتے ہیں، یقیناً بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ انہیں ان کے علماء اور مشائخ گناہ کی باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے، یقیناً بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ تفسیر: ابن کثیر فرماتے ہیں: "تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہو گئے ہیں"۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "علماء اور فقراء کی ڈانٹ کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں"۔ اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا: "تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے"۔ اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جس قوم میں نافرمانی ہو اور قدرت کے باوجود لوگ نہ روکیں تو اللہ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا۔ آیت 64 ترجمہ: اور یہود کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، ان کے ہاتھ باندھے جائیں اور جو انہوں نے کہا اس پر ان پر لعنت ہو، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ تفسیر: یہ یہود کی بخل اور گستاخی ہے۔ وہ اللہ کی شان میں کہتے تھے کہ اللہ بخیل ہے (نعوذ باللہ)۔ اللہ نے جواب دیا کہ بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، وہ بے حساب رزق دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہ ان کی یہ سرکشی اور حسد کہ قرآن نازل ہوا، ان کی سرکشی کو اور بڑھاتا ہے۔ اللہ نے ان کے درمیان قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا، جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے، وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ آیت 65-66 ترجمہ: اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں دور کر دیتے اور انہیں نعمت والی جنتوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ تورات و انجیل اور جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اسے قائم رکھتے تو اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے (رزق) کھاتے۔ تفسیر: اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ اگر یہی یہود و نصاریٰ سچے دل سے ایمان لے آتے، تو پچھلے گناہ معاف ہو جاتے۔ اور اگر وہ اپنی کتابوں پر صحیح عمل کرتے - یعنی تورات و انجیل میں جو نبی آخر الزماں ﷺ کی بشارتیں ہیں ان کو مانتے - تو اللہ ان پر آسمان و زمین سے رزق کے دروازے کھول دیتا۔ ان میں کچھ میانہ رو لوگ بھی ہیں لیکن اکثر کا عمل بہت برا ہے۔ آیت 67 - تبلیغ کا مرکزی حکم ترجمہ: اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا، بے شک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر ابن کثیر: یہ آیت تبلیغ دین کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اپنے نبی کریم ﷺ کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ نبی کریم ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو تجھ سے کہے کہ نبی ﷺ نے اللہ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے۔

About