@jameel_ahmad_naqshbandi: zulm ظلم

maulana jameel ahmed
maulana jameel ahmed
Open In TikTok:
Region: GB
Thursday 29 October 2026 08:23:11 GMT
7785
1605
74
523

Music

Download

Comments

user510626149
🇦🇪حمــــــــــــــــــــزہ💔 :
Yes Right
2026-10-30 08:55:13
0
khiradawan
Khirad Awan :
تمام مساجد کے مولویوں کو آج کے دور میں یہ خطبات دینے چاہئیں پر بد قسمتی سے ایسے اکا دکا ہی ہیں جو وقت کے حساب سے عوام کی رہنمائی کریں اور حق بیان کریں
2026-10-30 04:56:13
15
user3752729602
Abdul Wahid :
اللہ تعالی آپکی حفاظت فرماے آمین یارب العالمین
2026-10-30 04:29:48
10
zahoruddin2
zahor :
😭 بلکل درست
2026-10-30 07:11:39
1
sarwar.tahir3
Sarwar Tahir :
@Khirad Awan:تمام مساجد کے مولویوں کو آج کے دور میں یہ خطبات دینے چاہئیں پر بد قسمتی سے ایسے اکا دکا ہی ہیں جو وقت کے حساب سے عوام کی رہنمائی کریں اور حق بیان کریں
2026-10-30 05:32:38
3
iftikhar.ahmed.ch52
Iftikhar Ahmed Cheema :
Allah sab hadayat day
2026-10-30 05:02:15
2
naveedakhtar615
Naveed Akhtar :
2026-10-30 06:14:36
2
user917255337
Ahmad Ahmad :
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
2026-10-30 07:54:38
1
kalsumejazejaz1
kalsumejazejaz1 :
اللہ پاک پاکستان میں عدل و انصاف قائم کرے آمین ثم امین یارب العالمین
2026-10-30 02:48:42
5
naeem.awan383
Naeem Awan♥️ :
right
2026-10-30 06:17:13
1
user15237610722367
مزاحمت کا نشان :
2026-10-30 04:22:58
3
tanveer.azam509
Tanveer Azam :
:تمام مساجد کے مولویوں کو آج کے دور میں یہ خطبات دینے چاہئیں پر بد قسمتی سے ایسے اکا دکا ہی ہیں جو وقت کے حساب سے عوام کی رہنمائی کریں اور حق بیان کریں
2026-10-30 07:01:05
1
fazalrehman4859
Fazalur Rehman 2026 Pakistan :
Bohat Zaroori Paigham
2026-10-30 06:38:52
2
mandiala78612
Mumtaz Hussain :
be shak 💕 💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
2026-10-30 07:31:52
1
alimdeen26
Rind baloch :
🥰🥰🥰
2026-10-29 08:34:07
3
m.tahir471
M Tahir :
بے شک
2026-10-30 06:18:09
1
itz_in9ocent_kamboh425
✌️Muhammad Rehan👨‍🎓🫶🇵🇰 :
right
2026-10-30 08:22:20
0
abdul.karim2233
Abdul Karim :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-10-29 19:06:08
1
aslam.khan.babar5
Aslam Khan Babar Zai :
2026-10-30 06:24:34
0
user90711524
user907115 :
اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرما رہا ہے کہ میری ایمان والی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو جو نہیں پکڑتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ان کو اچھے کی پہچان نہیں رہتی اسی لیے اللہ پاک ان کو ہدایت نہی دیتا جو اللہ کی ایمان والی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیے ورنہ انسان کو سمجھ نہیں اتی کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے وہی لوگ گنہگار ہیں
2026-10-30 06:33:04
0
majeed6263
Majeed 🥰 :
کیا ہی خوبصورت پیغام ہے 🥰😇
2026-10-30 09:23:14
0
motor.workshop.ua
Motor Workshop UAE :
good
2026-10-30 09:29:42
0
khansadeirrrg
sudheer.rajpoot :
frhon ki hkomt 4 din ki thi us ne zulm kiye mgr Allah ne Rehti Dunia tk ibrt bna dia ye zalim b ibrt bny ge
2026-10-30 09:02:41
0
chali8779
chali8779 :
yes
2026-10-29 18:11:05
0
To see more videos from user @jameel_ahmad_naqshbandi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بعض لوگ نظرِ بد اتارنے کے لیے خشک مرچیں جلاتے ہیں، بچے کے گلے میں کالا دھاگا باندھتے ہیں، اور گھر کے باہر جوتا لٹکاتے ہیں؟ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد کو حقیقت تو قرار دیا، مگر کیا آپ ﷺ نے اس سے بچنے کے لیے کبھی یہ طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی؟ صحیح مسلم کی حدیث 2188 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نظرِ بد واقعی موجود ہے تو اس سے حفاظت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ اور یہ مرچیں جلانے اور کالے دھاگے باندھنے کی رسومات کہاں سے آئیں؟ اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک واقعے میں ملتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ سے حفاظت مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹوں کے لیے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے۔ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ یعنی میں تم دونوں کو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان، ہر نقصان پہنچانے والی مخلوق اور ہر بری نظر سے۔ صحیح بخاری، حدیث 3371۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس روایت میں نہ مرچیں جلانے کا ذکر ہے، نہ کالا دھاگا باندھنے کا۔ لیکن پھر یہ رسمیں ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہوئیں؟ برصغیر میں نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے مختلف علامتی چیزیں استعمال کرنے کی پرانی ثقافتی روایات موجود ہیں۔ ان میں کالے دھاگے، مرچیں اور دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔ تاہم ہر رسم کی ابتدا کسی ایک مذہب سے ہوئی ہو، یہ دعویٰ تاریخی ثبوت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ دھاگا یا مرچیں خود اسے غیبی نقصان سے بچا سکتی ہیں، تو یہ عقیدہ اسلامی توحید کے خلاف ہے۔ اور کسی مخصوص رسم کو سنت یا دینی حفاظت کا ثابت شدہ طریقہ کہنا بھی درست نہیں، جب تک اس کی معتبر دلیل موجود نہ ہو۔ اسلام نے ہمیں نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اللہ سے دعا، مسنون اذکار اور مشروع دم کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی کہے کہ بچے کو نظر لگ گئی ہے، مرچیں جلاؤ یا کالا دھاگا باندھو، تو اس سے ایک سوال ضرور کیجیے: اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ سے دعا مانگی تھی، تو ہم غیر ثابت رسومات کو دین کا حصہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 2188۔ #viral #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بعض لوگ نظرِ بد اتارنے کے لیے خشک مرچیں جلاتے ہیں، بچے کے گلے میں کالا دھاگا باندھتے ہیں، اور گھر کے باہر جوتا لٹکاتے ہیں؟ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد کو حقیقت تو قرار دیا، مگر کیا آپ ﷺ نے اس سے بچنے کے لیے کبھی یہ طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی؟ صحیح مسلم کی حدیث 2188 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نظرِ بد واقعی موجود ہے تو اس سے حفاظت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ اور یہ مرچیں جلانے اور کالے دھاگے باندھنے کی رسومات کہاں سے آئیں؟ اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک واقعے میں ملتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ سے حفاظت مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹوں کے لیے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے۔ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ یعنی میں تم دونوں کو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان، ہر نقصان پہنچانے والی مخلوق اور ہر بری نظر سے۔ صحیح بخاری، حدیث 3371۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس روایت میں نہ مرچیں جلانے کا ذکر ہے، نہ کالا دھاگا باندھنے کا۔ لیکن پھر یہ رسمیں ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہوئیں؟ برصغیر میں نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے مختلف علامتی چیزیں استعمال کرنے کی پرانی ثقافتی روایات موجود ہیں۔ ان میں کالے دھاگے، مرچیں اور دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔ تاہم ہر رسم کی ابتدا کسی ایک مذہب سے ہوئی ہو، یہ دعویٰ تاریخی ثبوت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ دھاگا یا مرچیں خود اسے غیبی نقصان سے بچا سکتی ہیں، تو یہ عقیدہ اسلامی توحید کے خلاف ہے۔ اور کسی مخصوص رسم کو سنت یا دینی حفاظت کا ثابت شدہ طریقہ کہنا بھی درست نہیں، جب تک اس کی معتبر دلیل موجود نہ ہو۔ اسلام نے ہمیں نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اللہ سے دعا، مسنون اذکار اور مشروع دم کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی کہے کہ بچے کو نظر لگ گئی ہے، مرچیں جلاؤ یا کالا دھاگا باندھو، تو اس سے ایک سوال ضرور کیجیے: اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ سے دعا مانگی تھی، تو ہم غیر ثابت رسومات کو دین کا حصہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 2188۔ #viral #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic

About