@canicani.id: casual sneakers👟✨ #canicani #canisoomin #paydaysale #promoguncang1111 #a

CANI CANI
CANI CANI
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 29 October 2026 12:56:54 GMT
150
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @canicani.id, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

💯🔥 آج کے معاشرے کی تلخ حقیقت  آج کے معاشرے میں بعض گھروں کا ایک تلخ مسئلہ یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد رشتوں میں توازن قائم رکھنے کے بجائے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ بہوئیں ساس سسر کے ساتھ معمولی اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا لیتی ہیں، اور بعض اوقات شوہر پر اس قدر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کے درمیان کسی ایک کو چننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ایک رشتہ جو دو خاندانوں کو قریب لانے کے لیے قائم ہوا تھا، وہی خاندانوں میں دوریاں پیدا کرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات اس رویے کے پیچھے مائکے کی تربیت، وہاں سے ملنے والے مشورے اور ہر اختلاف میں اپنی بیٹی کا بلا سوچے سمجھے ساتھ دینے کا رجحان بھی کردار ادا کرتا ہے۔ جب بیٹی کو سمجھوتے، برداشت اور رشتوں کا احترام سکھانے کے بجائے ہر حال میں اپنی بات منوانے کی ترغیب دی جائے، تو ازدواجی زندگی میں مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر لڑکی ایسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر گھریلو تنازعے کی ذمہ داری صرف بہو یا اس کے مائکے پر عائد ہوتی ہے؛ کبھی سسرال کا نامناسب رویہ بھی اختلافات کی وجہ بنتا ہے۔ اصل مسئلہ الگ گھر میں رہنا نہیں، بلکہ رشتوں کو توڑ کر اپنی مرضی منوانا ہے۔ اگر کوئی جوڑا باہمی رضامندی سے الگ رہتا ہے اور اپنے والدین کا احترام، خدمت اور خیال رکھتا ہے تو یہ لازماً غلط نہیں۔ لیکن اگر شوہر کو اپنے والدین سے بدظن کیا جائے، بہن بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے، تو یہ رویہ خاندان کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ والدین نے اولاد کو برسوں پال کر اس مقام تک پہنچایا ہوتا ہے؛ شادی کے بعد ان کی عزت اور حقوق کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے۔ اسی طرح بہو بھی کسی کے گھر سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک نئے رشتے میں آتی ہے، اس لیے اس کی عزت، سکون اور جائز حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ شوہر کی ذمہ داری کسی ایک فریق کا اندھا ساتھ دینا نہیں، بلکہ انصاف کے ساتھ دونوں طرف کے حقوق ادا کرنا ہے۔ یاد رکھیں! بیٹی کی اچھی تربیت یہ نہیں کہ وہ ہر حال میں اپنے شوہر کے گھر والوں کی تابع رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ رشتے نبھانا سیکھے، اور بیٹے کی اچھی تربیت یہ نہیں کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین کو بھول جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے والدین کی عزت بھی برقرار رکھے۔ کیونکہ گھر الگ ہونے سے خاندان ختم نہیں ہوتے، لیکن انا، ضد اور نفرت اگر دلوں میں گھر کر لیں تو ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔ 💯🔥 #شاطر #بھیڑیا🐺🔥 #معاشرتی_حقیقت #سچائی #foryou
💯🔥 آج کے معاشرے کی تلخ حقیقت آج کے معاشرے میں بعض گھروں کا ایک تلخ مسئلہ یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد رشتوں میں توازن قائم رکھنے کے بجائے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ بہوئیں ساس سسر کے ساتھ معمولی اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا لیتی ہیں، اور بعض اوقات شوہر پر اس قدر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کے درمیان کسی ایک کو چننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ایک رشتہ جو دو خاندانوں کو قریب لانے کے لیے قائم ہوا تھا، وہی خاندانوں میں دوریاں پیدا کرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات اس رویے کے پیچھے مائکے کی تربیت، وہاں سے ملنے والے مشورے اور ہر اختلاف میں اپنی بیٹی کا بلا سوچے سمجھے ساتھ دینے کا رجحان بھی کردار ادا کرتا ہے۔ جب بیٹی کو سمجھوتے، برداشت اور رشتوں کا احترام سکھانے کے بجائے ہر حال میں اپنی بات منوانے کی ترغیب دی جائے، تو ازدواجی زندگی میں مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر لڑکی ایسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر گھریلو تنازعے کی ذمہ داری صرف بہو یا اس کے مائکے پر عائد ہوتی ہے؛ کبھی سسرال کا نامناسب رویہ بھی اختلافات کی وجہ بنتا ہے۔ اصل مسئلہ الگ گھر میں رہنا نہیں، بلکہ رشتوں کو توڑ کر اپنی مرضی منوانا ہے۔ اگر کوئی جوڑا باہمی رضامندی سے الگ رہتا ہے اور اپنے والدین کا احترام، خدمت اور خیال رکھتا ہے تو یہ لازماً غلط نہیں۔ لیکن اگر شوہر کو اپنے والدین سے بدظن کیا جائے، بہن بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے، تو یہ رویہ خاندان کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ والدین نے اولاد کو برسوں پال کر اس مقام تک پہنچایا ہوتا ہے؛ شادی کے بعد ان کی عزت اور حقوق کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے۔ اسی طرح بہو بھی کسی کے گھر سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک نئے رشتے میں آتی ہے، اس لیے اس کی عزت، سکون اور جائز حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ شوہر کی ذمہ داری کسی ایک فریق کا اندھا ساتھ دینا نہیں، بلکہ انصاف کے ساتھ دونوں طرف کے حقوق ادا کرنا ہے۔ یاد رکھیں! بیٹی کی اچھی تربیت یہ نہیں کہ وہ ہر حال میں اپنے شوہر کے گھر والوں کی تابع رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ رشتے نبھانا سیکھے، اور بیٹے کی اچھی تربیت یہ نہیں کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین کو بھول جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے والدین کی عزت بھی برقرار رکھے۔ کیونکہ گھر الگ ہونے سے خاندان ختم نہیں ہوتے، لیکن انا، ضد اور نفرت اگر دلوں میں گھر کر لیں تو ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔ 💯🔥 #شاطر #بھیڑیا🐺🔥 #معاشرتی_حقیقت #سچائی #foryou

About