@waqas.siddiqueofficial: READ CAPTION 👇 Some people don't just talk to you; they literally mess with your blood pressure and sugar levels because their toxic behavior is designed to destroy your inner peace. کچھ لوگ آپ سے صرف بات نہیں کرتے، ان کی گفتگو آپ کے اعصاب، بلڈ پریشر اور شوگر لیول تک کو متاثر کر سکتی ہے۔ کبھی غور کیا ہے کہ کسی تلخ گفتگو کے بعد دل کی دھڑکن تیز، ذہن بے چین اور جسم تناؤ کا شکار کیوں ہو جاتا ہے؟ دراصل ذہنی دباؤ کے دوران جسم کا اعصابی نظام متحرک ہو جاتا ہے اور تناؤ سے متعلق ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ اس کیفیت میں دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کی سطح عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ یہ اثر ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا، لیکن مسلسل ذہنی دباؤ جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مسئلہ صرف چند تلخ الفاظ کا نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کا بھی ہے جس میں ہم بار بار انہی باتوں کو سوچتے، خود کو وضاحت دینے پر مجبور کرتے اور ہر گفتگو کے بعد اندر ہی اندر الجھتے رہتے ہیں۔ جب یہ کیفیت بار بار دہرائی جائے تو نیند، توجہ، ہاضمے اور جذباتی توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ خصوصاً ذیابیطس یا بلند فشارِ خون کے مریضوں کے لیے ذہنی دباؤ کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ جذباتی پختگی یہ نہیں کہ ہر بات برداشت کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی کیفیت کو پہچانیں، غیر ضروری بحث سے پیچھے ہٹنا سیکھیں اور اپنی حدود واضح رکھیں۔ ہر گفتگو کا جواب دینا ضروری نہیں، اور اپنے سکون کی حفاظت کرنا خود غرضی نہیں۔ اپنے اعصاب کو مسلسل تناؤ میں رکھنے والی کیفیت کو معمول نہ سمجھیں۔ ذہنی سکون کے ساتھ اپنی جسمانی صحت کا خیال بھی رکھیں۔ سوچنے کا سوال: کیا ہم دوسروں کی باتوں کا جواب دیتے دیتے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو نظر انداز تو نہیں کر رہے؟ یہ تحریر کسی ایسے شخص کے ساتھ بھی بانٹیں جسے اپنے سکون اور صحت کی اہمیت یاد دلانے کی ضرورت ہو۔ تحریر: وقاص صدیق | حرف ہنر اور احساس Follow for more #وقاص_صدیق #حرف_ہنر_اور_احساس #creatorsearchinsightsview #unfreezemyaccount #MentalHealth @Followers @tiktok