Good answer[Rose][Rose][Heartwarming][Heartwarming][Heartwarming]
2026-10-30 19:05:39
1
hoorbala :
gair mehram ager awaz SUNY to gunah nahi milta Kiya ye Bata den
2026-10-30 14:38:41
2
𝙎𝙝𝙪 𝙑𝙚𝙣𝙤𝙢 __١١ :
sorry sis parde ka hukam tab ni aya tha tab wo aa ke sawal kia krti the jab parde ka hukam naxil hua to haxrat Ayesha se ortie aa ker masla bayan kerti the wo rasool(saw) se poch ke enko btati aapne jo dalel pesh kia ye parde se pehle ka seen tha bad mai ye sab bnd hogia tha🙏🥰
2026-10-30 06:14:43
16
💞🤲💞 :
tab pArdy ka hukum ni aya tha
2026-10-30 19:33:40
1
🥀✨شان صحابہ زندہ باد ✨🥀 :
آپ کی بیان کردہ روایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورت کے لیے ہر زمانے، ہر ماحول اور ہر انداز میں غیر محرم مردوں کے سامنے آواز نشر کرنا جائز ہے۔
عورت کی آواز بذاتِ خود ستر ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حنفی فقہ کے راجح قول کے مطابق آواز بذاتِ خود ستر نہیں، لیکن فتنے کا اندیشہ ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے۔
صحیح بخاری 101 میں خواتین کا رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنا ثابت ہے، مگر اس حدیث کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر عوامی سطح پر ہر طرح کے بیانات دینے کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ضرورت کے تحت گفتگو اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری طور پر اپنی آواز عام کرنا دو الگ صورتیں ہیں۔
براہِ کرم ایک بات واضح فرمائیے: کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ عورت کا ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر غیر محرم مردوں کے لیے دینی بیانات نشر کرنا بھی ہر حال میں جائز ہے؟ اس کا جواب بھی قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں دیجیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین میں غلو اور بے احتیاطی دونوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔