@evrii.1: #rekomendasi #blouse #atasanwanita

Evrii Manullang
Evrii Manullang
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 30 October 2026 06:35:48 GMT
694
16
2
1

Music

Download

Comments

ailinmomezlyn
Topher :
kak spill celananya🙏
2026-10-30 16:35:43
0
gindariesti
gindariesti :
♥️♥️♥️
2026-10-30 11:10:26
0
To see more videos from user @evrii.1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غازی علم الدین شہید برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ایک عظیم ہیرو اور سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ وہ 4 دسمبر 1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا۔ جب ایک ہندو پبلشر راجپال نے حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کی، تو مسلمانوں کے دل شدید زخمی ہوئے۔ نوجوان علم الدین نے تڑپ کر اس گستاخ کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ 6 اپریل 1929ء کو انہوں نے اپنی غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راجپال کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ گرفتاری کے بعد عدالت میں انہوں نے فخر سے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ عظیم رہنما علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ان کے جذبے کا احترام کیا اور قانونی معاونت فراہم کی۔ بالاآخر 31 اکتوبر 1929ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی، لیکن وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا، جس میں لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی اور ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ #pleaseunfrezzemyaccount #creatersearchingsight #OwaisiMediaGujarat #اسلامی_ویڈیو
غازی علم الدین شہید برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ایک عظیم ہیرو اور سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ وہ 4 دسمبر 1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا۔ جب ایک ہندو پبلشر راجپال نے حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کی، تو مسلمانوں کے دل شدید زخمی ہوئے۔ نوجوان علم الدین نے تڑپ کر اس گستاخ کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ 6 اپریل 1929ء کو انہوں نے اپنی غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راجپال کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ گرفتاری کے بعد عدالت میں انہوں نے فخر سے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ عظیم رہنما علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ان کے جذبے کا احترام کیا اور قانونی معاونت فراہم کی۔ بالاآخر 31 اکتوبر 1929ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی، لیکن وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا، جس میں لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی اور ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ #pleaseunfrezzemyaccount #creatersearchingsight #OwaisiMediaGujarat #اسلامی_ویڈیو

About