@anonymous.exe404: انسانی زندگی خوشی اور غمی کا امتزاج ہے۔ کائنات کے کسی بھی انسان کی زندگی میں پریشانی یا دکھ ضرور آتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ یہ دنیا آزمائش کا گھر ہے اور یہاں آنے والی ہر تکلیف انسان کے ایمان کا امتحان ہوتی ہے۔ لیکن جو چیز بندے کو مایوسی سے بچاتی ہے، وہ اللّٰہ رب العزت کا یہ اٹل وعدہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی تکلیف ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنائی گئی۔ یہ جملہ ٹوٹے ہوئے دلوں کا علاج اور مایوس روحوں کے لیے شفا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ جب حالات اختیار سے باہر ہو جائیں، تو اپنی باگ ڈور اپنے خالق کے سپرد کر دو۔ (ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ) دینِ اسلام کا یہ اصول ہے کہ اللّٰہ رب العزت بندوں پر ان کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے کہ "بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ شریعت کی رو سے یہ دنیا خود فانی ہے، تو اس کے دکھ کیسے ہمیشہ رہ سکتے ہیں؟ انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزمائشیں اللّٰہ رب العزت کے نیک بندوں پر آئیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری ہو یا حضرت یوسف علیہ السلام کا جیل کا وقت—یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ ہر تکلیف کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے اور اس کے گزرتے ہی اللّٰہ پاک شفا اور کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ (ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ) اللّٰہ رب العزت کا وعدہ سچا ہے اور وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ جب انسان کسی مصیبت میں گِھر جاتا ہے، تو ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ اللّٰہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ جب ہم یقین کر لیتے ہیں کہ تکلیف دور کرنے والی ذات صرف اللّٰہ پاک کی ہے، تو دل میں سکون پیدا ہو جاتا ہے۔ اللّٰہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس پر توکل کرتا ہے، اللّٰہ پاک اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ انسان کا یہ پختہ یقین کہ "یہ سخت وقت بھی گزر جائے گا" اسے ہر حال میں مضبوط رکھتا ہے۔ (ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ) جملے کا اگلا حصہ ہمیں "صبر" کی تلقین کرتا ہے۔ شریعت میں اسے "صبرِ جمیل" کہا گیا ہے، یعنی ایسا صبر جس میں انسان شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رب کے سامنے ہی اپنے دل کا حال بیان کرے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ سخت حالات میں بھی اپنے ایمان کو کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ قرآن پاک میں خوشخبری دی گئی ہے کہ "اللّٰہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ جس انسان کے ساتھ کائنات کا مالک خود ہو، اسے دنیا کی کوئی بھی عارضی تکلیف کبھی شکست نہیں دے سکتی۔🤍🕊️