@listing.history: مرزا اوغورلو (اوغورلو محمد) کی داستان پیدائش اور خاندان اوغورلو محمد نومبر 1442 میں دیار بکر میں پیدا ہوا۔ وہ آق قویونلو کے سلطان اوزون حسن کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ اس کا لقب "اوغورلو" ہے، جس کا مطلب خوش بخت ہے۔ اس کا سوتیلا بھائی خلیل صرف آٹھ مہینے چھوٹا تھا اور اس کی ماں سلجوق شاہ بیگم تھی۔ یہی بھائی اور اس کی ماں آگے چل کر اوغورلو کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنے۔ ابتدائی جوانی سترہ برس کی عمر میں اسے کراحصار کی گورنری ملی۔ اس نے کویولحصار پر بھی قبضہ کیا۔ 1459/60 کی سردیوں میں سلطان محمد فاتح نے 20 ہزار کی فوج سے محاصرہ کیا، مگر بہار 1460 میں آق قویونلو فوج نے عثمانیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اسی دور میں اس کی شادی ارزنجان میں اس کے ماموں عیسیٰ ثانی بلدقانی کی بیٹی سے ہوئی۔ ## قرہ قویونلو کی شکست 1467 میں جہان شاہ کے مرنے کے بعد اوزون حسن قرہ قویونلو کے علاقے فتح کرنے نکلا، اور اوغورلو اس کا اہم سپہ سالار تھا۔ - اسے بغداد بھیجا گیا، مگر شہر بہار 1468 میں اوزون حسن کے آنے تک مزاحمت کرتا رہا۔ - اپریل مئی 1469 تک حسن علی گرفتار ہو کر مارا گیا۔ بعض ذرائع کے مطابق اس نے خودکشی کی تھی۔ - 22 اکتوبر 1469 کو شبانکارہ کے قریب جہان شاہ کا بیٹا مرزا یوسف اس کے ہاتھوں مارا گیا۔ - اس کے بعد اس نے لرستان کو خراج گزار بنایا اور خراسان کی مہم میں حصہ لیا۔ عثمانیوں اور مملوکوں سے ٹکراؤ 1472 میں اوزون حسن نے عثمانیوں کے خلاف مہم شروع کی۔ نومبر دسمبر 1472 میں اوغورلو نے مملوکوں کا قلعہ بیرہ جک لینا چاہا، مگر مملوک امیر یشبک کے سامنے اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اگست 1473 میں اس کا سب سے بڑا کارنامہ سامنے آیا۔ اس نے دس ہزار سواروں کے ساتھ جعلی پسپائی کا جال بچھایا اور عثمانی سپہ سالار حاص مراد پاشا کو ایک تنگ گھاٹی میں پھانس لیا۔ حاص مراد مارا گیا اور تقریباً چار ہزار عثمانی سپاہی قتل ہوئے۔ ترکی دائرۃ المعارف کے مطابق یہ واقعہ 4 اگست 1473 کا ہے۔ اس فتح کے بعد اس نے مشورہ دیا کہ صدمے میں آئے ہوئے عثمانیوں پر فوراً حملہ کیا جائے۔ مگر سلجوق شاہ بیگم نے اوزون حسن کو اس سے روک دیا۔ مؤرخ تہرانی کے مطابق وہ نہیں چاہتی تھی کہ اوغورلو کی شان اتنی بڑھے کہ اس کے اپنے بیٹے کا حریف بن جائے۔ پھر 11 اگست 1473 کو اوتلوق بیلی کی جنگ میں آق قویونلو کو فیصلہ کن شکست ہوئی، اور اوزون حسن کا بیٹا زینل مارا گیا۔ جانشینی کی کشمکش 1474 میں اوزون حسن کی بیماری کی خبر پھیلی تو دربار دو دھڑوں میں بٹ گیا۔ ایک طرف سلجوق شاہ بیگم تھی جو اپنے بیٹے خلیل کو جانشین بنانا چاہتی تھی۔ دوسری طرف اوزون حسن کی ماں اور مقصود کی ماں تھیوڈورا تھیں جو اوغورلو کی حامی تھیں۔ صوبوں میں چاکرلو قبیلہ اور اوزون حسن کا بھائی اویس بھی اوغورلو کے ساتھ تھے۔ بغاوت اور فرار اوغورلو نے شیراز خلیل سے چھین لیا۔ اوزون حسن شیراز کی طرف بڑھا، تو پیچھے چاکرلو نے تبریز پر قبضہ کر لیا۔ اوغورلو چچا اویس کی پناہ میں گیا، مگر اویس جولائی 1475 میں شکست کھا کر مارا گیا۔ اوغورلو کی ماں نے مصر میں مملوک سلطان قایتبائی کے پاس پناہ لی۔ اوغورلو خود عثمانی سلطنت پہنچا۔ عثمانی سلطنت میں سلطان محمد فاتح نے اسے عزت سے قبول کیا اور اپنی بیٹی گوہرخان سلطان کی شادی اس سے کر دی۔ اسے سیواس کا بیلربے بنایا گیا۔ اس شادی سے اس کا بیٹا احمد پیدا ہوا۔ انجام سلجوق شاہ بیگم نے یہ جھوٹی خبر پھیلائی کہ اوزون حسن مر گیا ہے اور اوغورلو کو تخت کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ جعلی خطوط پر اعتبار کر کے اوغورلو آق قویونلو کی طرف لوٹا۔ ارزنجان کے قریب اس پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور وہ مارا گیا۔ ترکی ذرائع اس کی تاریخ دسمبر 1477 بتاتے ہیں۔ اوزون حسن 5 یا 6 جنوری 1478 کو وفات پا گیا اور خلیل تخت پر بیٹھا۔ اوغورلو کی بیوی اور بیٹا بچ نکلے۔ اسے بایبورت میں چایرپولو کے مقام پر دفن کیا گیا۔ وارث اوغورلو کا بیٹا احمد بیگ (گودے احمد) 1497 میں آق قویونلو کا سلطان بنا، یعنی جو تخت باپ کو نہ ملا وہ بیٹے کو ملا۔ اس کے دوسرے بیٹوں میں محمود 1491 میں تخت کی کشمکش میں مارا گیا، اور حسین 1492 میں وفات پا گیا۔ Subscribe Request ❤️🩹 Link In Bio❤️🔥 YouTube