@hangtichcuc20: (New)Camera Yoosee U19T 2 Mắt

Hằng Tích Cực
Hằng Tích Cực
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 31 October 2026 02:49:05 GMT
116
1
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hangtichcuc20, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کرنل معمر قذافی جب لیبیا کے حکمران تھے تو انہوں نے اپنی عوام کے لیے کئی نمایاں اقدامات کیے تعلیم اور علاج مکمل طور پر مفت تھا۔ بجلی اور پانی کی سہولت بغیر کسی فیس کے فراہم کی جاتی تھی۔ نئی شادی شدہ جوڑوں کو رہائش کے لیے گھر حکومت کی طرف سے دیا جاتا تھا۔ ہر شہری کو گاڑی خریدنے میں سبسڈی دی جاتی تھی۔ تیل کی آمدنی کا بڑا حصہ براہِ راست عوام پر خرچ کیا جاتا تھا۔ قذافی کے دور کو کچھ لوگ آمریت کہتے ہیں، مگر عوامی فلاح کے حوالے سے وہ کئی پہلوؤں میں منفرد اور مثالی حکمران بھی مانا جاتا ہےان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں ان بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں (وہ بدبخت جنہوں نے اپنوں کو برا اور غیروں کو ھمدرد سمجھا) لیبیا کے
کرنل معمر قذافی جب لیبیا کے حکمران تھے تو انہوں نے اپنی عوام کے لیے کئی نمایاں اقدامات کیے تعلیم اور علاج مکمل طور پر مفت تھا۔ بجلی اور پانی کی سہولت بغیر کسی فیس کے فراہم کی جاتی تھی۔ نئی شادی شدہ جوڑوں کو رہائش کے لیے گھر حکومت کی طرف سے دیا جاتا تھا۔ ہر شہری کو گاڑی خریدنے میں سبسڈی دی جاتی تھی۔ تیل کی آمدنی کا بڑا حصہ براہِ راست عوام پر خرچ کیا جاتا تھا۔ قذافی کے دور کو کچھ لوگ آمریت کہتے ہیں، مگر عوامی فلاح کے حوالے سے وہ کئی پہلوؤں میں منفرد اور مثالی حکمران بھی مانا جاتا ہےان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں ان بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں (وہ بدبخت جنہوں نے اپنوں کو برا اور غیروں کو ھمدرد سمجھا) لیبیا کے "ظالم ڈکٹیٹر" معمر قذافی کے عوام پر ڈھائے جانے والے "مظالم" کی تفصیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!! ۱۔ لیبیا میں بجلی مفت ہے، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا۔۔ ۲۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔۔ ۳۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔۔ ۴۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی۔۔ ۵۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل ہیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔ ۶۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔۔ ۷۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔۔ ۸۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی۔۔ ۹۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی۔۔ ۱۰۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھے، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے۔۔ ۱۱۔ اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پارہا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تا وقت کہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے۔۔ ۱۲۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔ ۱۳۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے۔ ۱۴۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قذافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔ ان مظالم کے علاوہ قذافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔ پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔ دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے انکا ایک بلاک بناے کی کوشش کی ۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک کبھی عرب ممالک کا ۔ لیکن ہمارے مسلمان ممالک قضافی کی اس " چال " میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔ تیسری چیز میں تو اسنے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے ۔ ان کے ان کرتوتوں کی بدولت ہی امریکہ نے قذافی کو قتل کروا دیا تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے ۔ اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور لیبیا جمہوریت کے مزے لے رہا ہے !!

About