@sunnych077: مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں ایک ایسے مبارک مقام کی زیارت کا موقع ملا، جہاں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زوجہ محترمہ، ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا مدفون ہیں۔ اس مقام کو دیکھ کر دل میں محبت اور عقیدت کی ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی اور ذہن تقریباً چودہ سو سال پیچھے چلا گیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی صاحبزادی تھیں۔ 5 یا 6 ہجری میں غزوۂ بنو مصطلق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آپ سے نکاح فرمایا۔ اس مبارک نکاح کی برکت سے صحابہ کرام نے بنو مصطلق کے متعدد قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نہایت عبادت گزار اور ذکرِ الٰہی سے محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ صحیح مسلم حدیث نمبر 2726 میں ذکر ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نمازِ فجر کے بعد تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہا ذکرِ الٰہی میں مصروف تھیں۔ جب نبی کریم ﷺ دن چڑھنے کے بعد واپس آئے تو وہ اسی جگہ بیٹھی تھیں۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے انہیں ایک عظیم فضیلت والا ذکر سکھایا: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی وفات 50 یا 56 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ آج آپ کی قبر کی مخصوص جگہ کی قطعی شناخت میں احتیاط ضروری ہے، لیکن یہ مبارک قبرستان امہات المؤمنین اور صحابہ کرام کی عظیم یادگار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا جیسا اخلاص، عبادت سے محبت اور رسول اللہ ﷺ کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین۔#sunnych #Decentbookcanter #fypシ゚ #sunnych #sunnych