@zaheer.ud.din93: #غربت کی ماری جوان ماں اور اس کی معصوم اولاد غربت بھی کتنی ظالم ہوتی ہے، خاص طور پر جب یہ کسی جوان ماں کے نصیب میں لکھ دی جائے۔ ایک ایسی ماں جس کی عمر ابھی خواب دیکھنے، ہنسنے اور زندگی کو محسوس کرنے کی ہوتی ہے، مگر وہ اپنے حصے کی خوشیاں بھلا کر اپنے معصوم بچے کے لیے جینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس ماں کی آنکھوں میں بھی کبھی ہزاروں خواب سجا کرتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ اچھے کپڑے پہنے، سج سنور کر رہے، کبھی بےفکری سے مسکرائے، کہیں گھومنے جائے اور کوئی اس کے چہرے کی تھکن کو محبت سے پڑھ لے۔ مگر غربت نے اس کے تمام خوابوں کو جیسے کسی اندھیرے کمرے میں قید کر دیا ہے۔ اب اس کی صبح اپنی بھوک سے نہیں، بچے کی بھوک سے شروع ہوتی ہے۔ وہ خود بھوکی رہ کر بچے کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بچے کے لیے دودھ نہ ہو تو اس کا دل روتا ہے، بچے کے جسم پر اچھے کپڑے نہ ہوں تو اس کی نظریں جھک جاتی ہیں۔ جب معصوم بچہ کسی چیز کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ماں کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا، سوائے ایک مجبور مسکراہٹ کے، جس کے پیچھے ہزاروں آنسو چھپے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ درد اس وقت ہوتا ہے جب بچہ ماں کے چہرے کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور ماں اپنی آنکھوں میں بھرے آنسو چھپا لیتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ اس کی بےبسی کو سمجھے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا بچپن خوشیوں میں گزرے، اسے غربت کے معنی معلوم نہ ہوں، اسے یہ احساس نہ ہو کہ اس کی ماں راتوں کو کیوں جاگتی ہے اور دن بھر کیوں پریشان رہتی ہے۔ لوگ شاید اس کے پرانے کپڑے دیکھتے ہیں، اس کا بکھرا ہوا حلیہ دیکھتے ہیں، مگر کوئی اس کے دل کی ویرانی نہیں دیکھتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنی بار اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ چکی ہے، کتنی راتیں خالی پیٹ گزاری ہیں اور کتنی مرتبہ اپنے بچے کو سینے سے لگا کر خاموشی سے روئی ہے۔ جوانی میں ماں بننا خوبصورت احساس ہے، مگر جب ماں کے پاس بچے کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے وسائل نہ ہوں تو یہی خوبصورت احساس ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ کاش دنیا سمجھ سکے کہ غریب ماں کو صرف پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے عزت، محبت، سہارا اور دو ہمدرد لفظ بھی چاہییں۔ اسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اپنی خودداری کو مرتے دیکھنا کتنا تکلیف دیتا ہوگا، یہ صرف وہی جان سکتی ہے۔ ایک غریب ماں خود تو زندگی کی ہر محرومی سہہ لیتی ہے، مگر جب اس کا معصوم بچہ کسی خواہش کے لیے اس کی طرف دیکھتا ہے اور وہ بےبس ہو کر نظریں جھکا لیتی ہے، تو اس لمحے اس کے دل پر جو گزرتی ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کیونکہ ماں کی سب سے بڑی غربت خالی جیب نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب اس کے پاس اپنے بچے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ 💔