@himesakialice: 初渋ハロたのちかった#渋ハロ #ジャスミン#おすすめにのりたい #jc#バズりたい

姫咲有栖
姫咲有栖
Open In TikTok:
Region: JP
Saturday 31 October 2026 14:02:28 GMT
1136
100
4
12

Music

Download

Comments

abcwwt
とりあえず感謝 :
最高!
2026-11-02 14:59:33
1
starclub3178
とくとKOOLパンク🌹💥ROCK :
めっちゃくちゃ可愛い♡
2026-10-31 23:02:40
1
idol_ouen_otaku
shin_shin_ :
ハロウィンデート🎃👫💓したい💕
2026-11-02 01:12:58
1
dreamlike_desu
ドリームライク :
こんな可愛い子がいたら大騒ぎだ🥰🎃
2026-11-02 15:30:46
0
To see more videos from user @himesakialice, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہیڈنگ: سبی سے 14 سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا کا معاملہ بلوچستان اسمبلی میں اٹھا دیا گیا، سندھ حکومت سے بازیابی کا مطالبہ کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے رکن اشوک کمار نے سبی سے 14 سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا، مذہب کی تبدیلی اور نکاح کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے حکومت سندھ سے بچی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ اشوک کمار نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق 3 روز قبل سبی سے 14 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ کے علاقے بخشاپور منتقل کیا گیا، جہاں میاں مٹھو کی درگاہ پر اس کا مذہب تبدیل کرکے نکاح کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہندو برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ بلوچستان میں اقلیتی برادریوں کو تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے مذہبی تہوار آزادی سے مناتی ہیں، تاہم ایسے واقعات سے اقلیتی خاندانوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اشوک کمار کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی کم عمر شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق قانون سازی کر چکی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور بچی کی عمر اور رضامندی سے متعلق حقائق سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کا اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنا الگ معاملہ ہے، تاہم کم عمر بچی کے مبینہ اغوا اور شادی کے الزامات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ رکن اسمبلی نے بتایا کہ سبی پولیس مبینہ طور پر گزشتہ 3 روز سے بخشاپور میں موجود ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے رابطہ کرکے بچی کی بازیابی یقینی بنانے کی درخواست کی اور تیمور ڈومکی کا نام بھی ایوان میں لیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں سرپرستی کر رہے ہیں۔ وضاحت: اغوا، مذہب کی تبدیلی، نکاح اور سرپرستی سے متعلق تفصیلات رکن اسمبلی اشوک کمار کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ افراد کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ #DailyAhemKhabar #Balochistan #PakistanNews #Quetta #BreakingNews
ہیڈنگ: سبی سے 14 سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا کا معاملہ بلوچستان اسمبلی میں اٹھا دیا گیا، سندھ حکومت سے بازیابی کا مطالبہ کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے رکن اشوک کمار نے سبی سے 14 سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا، مذہب کی تبدیلی اور نکاح کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے حکومت سندھ سے بچی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ اشوک کمار نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق 3 روز قبل سبی سے 14 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ کے علاقے بخشاپور منتقل کیا گیا، جہاں میاں مٹھو کی درگاہ پر اس کا مذہب تبدیل کرکے نکاح کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہندو برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ بلوچستان میں اقلیتی برادریوں کو تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے مذہبی تہوار آزادی سے مناتی ہیں، تاہم ایسے واقعات سے اقلیتی خاندانوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اشوک کمار کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی کم عمر شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق قانون سازی کر چکی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور بچی کی عمر اور رضامندی سے متعلق حقائق سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کا اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنا الگ معاملہ ہے، تاہم کم عمر بچی کے مبینہ اغوا اور شادی کے الزامات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ رکن اسمبلی نے بتایا کہ سبی پولیس مبینہ طور پر گزشتہ 3 روز سے بخشاپور میں موجود ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے رابطہ کرکے بچی کی بازیابی یقینی بنانے کی درخواست کی اور تیمور ڈومکی کا نام بھی ایوان میں لیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں سرپرستی کر رہے ہیں۔ وضاحت: اغوا، مذہب کی تبدیلی، نکاح اور سرپرستی سے متعلق تفصیلات رکن اسمبلی اشوک کمار کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ افراد کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ #DailyAhemKhabar #Balochistan #PakistanNews #Quetta #BreakingNews

About