@zoya__naz: دل جنگلی مخلوق کی مانند ہوتے ہیں، شاید اسی لیے ہماری پسلیاں ان کے لیے پنجرہ ہیں۔ یہ کوئی عام بات نہیں، یہ انسان کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ ہم اپنے احساسات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر دل تو ہر بار وحشی ثابت ہوتا ہے۔ وہ کسی کی محبت میں دریا بن جاتا ہے، کسی کے غم میں آگ بن جاتا ہے، اور کسی کے ساتھ ایسے جڑتا ہے کہ ہم خود کو بھول جاتے ہیں۔ مگر کیا یہ قید ہے؟ کیا ہم نے دل کو واقعی پنجرے میں بند کر رکھا ہے؟ شاید ہاں، کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اسے آزاد چھوڑ دیا تو کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ ہم پسلیوں کے پیچھے اس کی ہر دھڑکن کو محسوس کرتے ہیں، مگر اسے باہر آنے نہیں دیتے۔ اور جب کوئی اس پنجرے کی سلاخوں کو ہلاتا ہے، تو ہم سنبھل جاتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دل ابھی پوری طرح پالا نہیں گیا۔ دل کو قابو میں رکھنا ضروری ہے، مگر اسے مکمل طور پر بند کرنا بھی درست نہیں۔ اس لیے اس پنجرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا رکھو، تاکہ کوئی اس کے اندر جھانک سکے، مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ اسے توڑ کر باہر نکل جائے۔ کیونکہ ایک بار ٹوٹنے کے بعد یہ پھر کبھی اتنا مضبوط نہیں ہو تا #💔 #foryou #foryoupage