@ptmkhyber5: پی ٹی ایم رہنما نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کو پشاور میں پی ٹی آئی کے امن جرگہ سے سرعام وردی اور سادہ لباس میں ملبوس ریاستی مسلح فورسز نے اغوا کیا۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے جلسہ عام میں تسلیم کیا کہ انہیں پاکستان کے مسلح اداروں نے اغوا کیا ہے۔ ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر انہیں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اسی طرح پی ٹی ایم رہنما فرید افریدی کو پشاور میں سرعام پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس خفیہ اداروں کے افراد نے سینکڑوں گواہوں کی موجودگی میں اغوا کر کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کی جبری گمشدگیوں کے گواہان اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود پشاور ہائی کورٹ نے بازیاب کرانے کے بجائے نام نہاد جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔ ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر جے آئی ٹی میں پی ٹی ایم کے نمائندوں کے پیش ہونے کے باوجود ریاستی مسلح اور خفیہ اداروں کے سربراہان پیش نہیں ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی کو بطور ہتھیار جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ فرید افریدی کے اغوا اور جبری گمشدگی کے مقدمات آج تک درج نہیں کیے جا رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا مرکزی اعلامیہ PTM NEWS. @topfans