@cx_.qz0: #الان ملايين إيرانية بلا قيمة داخل البيوت! #عاجل #اهم_الاخبار #اخر_الاخبار #ايران

Sura
Sura
Open In TikTok:
Region: IQ
Sunday 01 November 2026 19:02:19 GMT
14152
346
85
319

Music

Download

Comments

alaalar8
علاء حسين عباده :
وعلي هيج يصير بينا اذا ما تخلصنه من ايران
2026-11-01 23:36:13
47
255_gfy
زمن محمد :
من حكومتكم الجايفه
2026-11-02 06:06:58
6
user49500690833033
كوزمتك بيت الكحل :
هذني كلهن ب ٢٥ الف عراقي 😂
2026-11-02 05:01:19
9
ave22s3
اكره الرياء :
على أقل شي عدهم كرامه وعزت نفس وشجاعه
2026-11-02 03:32:33
1
aflam_masr92
احدث الافلام المصرية :
اهم شي العقيدة
2026-11-02 04:13:21
4
user3585694700687
الموسوي :
وين عدهم ملايين
2026-11-01 21:56:15
0
user7120333002125
حسن البصراوي :
ذني كلهن ما يصيرن ورقه
2026-11-02 04:39:52
2
asoo_80_am
علي مظهر العجايب :
بيام الحصار هم العراق هيج فلوسه بس ماوكف العالم تك رجل ولاخله ناس تبوس بديه
2026-11-02 08:35:25
1
saadg1461
ابو سمر :
تخيل كل هاي الفلوس ما تطلع 20 دولار 💲
2026-11-02 02:31:16
2
rorororo5678
شركه ممول DXN :
حمد لله على كل حال
2026-11-02 10:12:31
0
2i__8il
ابو علي :
صدك اذالزكنه بيران مصير العراق مثلهم
2026-11-02 02:14:02
2
saz4t
تعبني الوكت :
اكو مثل قديم يكول شيلو من هاالمال حمل جمال بس شنو الفايدة اموال بلا قيمة
2026-11-02 02:56:13
3
user8149953499008
طالب كاظم الغزي :
بهذه الطريقه تضحك الحكومه على الشعب٠
2026-11-02 03:57:17
1
user8110116120038
user8110116120038 :
هاي كلها ٢٠٠ دولار
2026-11-02 07:15:59
0
user6166613417205
قاسم المحمدي :
التومان
2026-11-01 21:36:20
1
amar73652
amar :
العقيدة اهم شي الفلوس وسخ دنيا
2026-11-02 07:35:22
0
5594541273206thereisnoa3
علي :
الحمدلله
2026-11-01 23:29:18
1
sheefgameel0
الشيف ابو علي للاكل الشرقي :
🤔🤔🤔🤔🤔🤔
2026-11-01 21:30:45
0
ahmedabraheem02
الصغير :
هذه قصة الصوره الظاهره على التومان من تأريخ هبوط الطائره الفرنسيه سنة 79 في طهران .
2026-11-02 06:39:48
0
mohammed79309
mohammed :
فدوة الفلوس أهم شي العقيدة
2026-11-02 06:14:29
0
badk317
الزوبعي :
والعقيده
2026-11-02 10:40:33
0
user12117954086004
ابو محمد :
والله والله والله إيران اذلت أمريكا الطابوت الدول مرتزقة إسرائيل
2026-11-02 07:53:31
0
sppppxx
صكار :
2026-11-02 12:50:11
0
10cy35
سلطان :
2026-11-02 07:12:39
0
user145500966818
user145500966818 :
ياللاسف
2026-11-02 00:21:42
0
To see more videos from user @cx_.qz0, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میاں غلام محمد احمد خان مانیکا آج کی خوبصورت شخصیت جن کا شمار پاکپتن کی سیاست میں اول درجے میں ہوتا ہے میاں غلام محمد احمد خان مانیکا 1934ء میں پاکپتن شریف، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکپتن کی اہم ترین اور بااثر سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق بااثر مانیکا خاندان سے تھا، جس نے کئی دہائیوں تک پاکپتن کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ خاندانی پس منظر ان کی زوجہ رضیہ سلطان تھیں، جن کا تعلق جالندھر کے ایک پٹھان خاندان سے تھا۔ وہ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کرکے پاکستان آئیں۔ ان کے والد محمد احمد خان تقسیمِ ہند سے قبل بھوپال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کے بیٹوں میں خاور فرید مانیکا، سینئر کسٹم آفیسر؛ میاں احمد رضا خان مانیکا، موجودہ رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے)؛ میاں فاروق احمد خان مانیکا، موجودہ رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے)؛ اور معظم محمود مانیکا شامل ہیں۔ سیاسی سفر ان کے سیاسی کیریئر کی بات کی جائے تو 1985ء میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 135 سے الیکشن لڑا۔ اس وقت پاکپتن، ساہیوال کے انتخابی حلقے کا حصہ تھا۔ انہوں نے اس انتخاب میں 62,236 ووٹ حاصل کیے۔ 1988ء سے 1990ء تک وہ رکنِ قومی اسمبلی رہے۔ اس کے بعد 1993ء سے 1996ء تک ایک مرتبہ پھر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کے دوران مختلف ادوار میں کئی مرتبہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ خصوصاً 1990ء کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔ اپنے سیاسی سفر کے آخری ادوار میں ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا۔ انہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ مشکل اور کٹھن حالات میں بھی وفاداری نبھانے والے سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ میاں منظور مانیکا بھی ان کے ساتھ پارٹی سے وابستہ رہے۔ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبے میاں غلام محمد احمد خان مانیکا نے اپنے سیاسی دور میں پاکستان کے عوام، بالخصوص اہلِ پاکپتن کے لیے بہت سے اہم ترقیاتی اور فلاحی کام کیے۔ ان کے نمایاں منصوبوں میں سب سے اہم پاکپتن میں او پی ایف (OPF) اسکول کا قیام ہے، جو سمندر پار پاکستانیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بجلی کی فراہمی کے متعدد منصوبوں پر کام کیا اور ان علاقوں میں گھر گھر بجلی پہنچانے کے اقدامات کیے جہاں پہلے بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے پورے پاکپتن میں سڑکوں کا جال بچھانے، بنیادی مراکزِ صحت (بیسک ہیلتھ یونٹس) کے قیام اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں، پاکپتن میں بے شمار سرکاری اسکولوں کے قیام کی منظوری بھی دلوائی، تاکہ علاقے کے بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ وفات اور آخری آرام گاہ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا 24 نومبر 2011ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال پر اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں واقع میاں خاور فرید مانیکا کی رہائش گاہ پر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں پیر غنی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ سیاسی وراثت اور تسلسل میاں غلام محمد احمد خان مانیکا نے اپنی زندگی کی آخری سیاسی سرگرمیاں اور سیاسی ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے میاں احمد رضا خان مانیکا کے سپرد کر دیں، جو اس وقت رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔ میاں احمد رضا خان مانیکا اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ اہلِ پاکپتن سے محبت اور خلوص کا رشتہ رکھتے ہیں اور اپنے والد کے سیاسی طور طریقوں اور عوامی خدمت کے جذبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا کی سیاسی زندگی، عوامی خدمات اور پاکپتن کی ترقی کے لیے ان کی کاوشیں ان کی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی سیاسی وراثت آج بھی ان کے خاندان کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔ #foryou #fyp #viral #viralvideo #viraltiktok @ساڈا پنجاب @S A L M A N   M U S L A 🖤 @Gazar Vlogs
میاں غلام محمد احمد خان مانیکا آج کی خوبصورت شخصیت جن کا شمار پاکپتن کی سیاست میں اول درجے میں ہوتا ہے میاں غلام محمد احمد خان مانیکا 1934ء میں پاکپتن شریف، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکپتن کی اہم ترین اور بااثر سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق بااثر مانیکا خاندان سے تھا، جس نے کئی دہائیوں تک پاکپتن کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ خاندانی پس منظر ان کی زوجہ رضیہ سلطان تھیں، جن کا تعلق جالندھر کے ایک پٹھان خاندان سے تھا۔ وہ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کرکے پاکستان آئیں۔ ان کے والد محمد احمد خان تقسیمِ ہند سے قبل بھوپال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کے بیٹوں میں خاور فرید مانیکا، سینئر کسٹم آفیسر؛ میاں احمد رضا خان مانیکا، موجودہ رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے)؛ میاں فاروق احمد خان مانیکا، موجودہ رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے)؛ اور معظم محمود مانیکا شامل ہیں۔ سیاسی سفر ان کے سیاسی کیریئر کی بات کی جائے تو 1985ء میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 135 سے الیکشن لڑا۔ اس وقت پاکپتن، ساہیوال کے انتخابی حلقے کا حصہ تھا۔ انہوں نے اس انتخاب میں 62,236 ووٹ حاصل کیے۔ 1988ء سے 1990ء تک وہ رکنِ قومی اسمبلی رہے۔ اس کے بعد 1993ء سے 1996ء تک ایک مرتبہ پھر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کے دوران مختلف ادوار میں کئی مرتبہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ خصوصاً 1990ء کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔ اپنے سیاسی سفر کے آخری ادوار میں ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا۔ انہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ مشکل اور کٹھن حالات میں بھی وفاداری نبھانے والے سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ میاں منظور مانیکا بھی ان کے ساتھ پارٹی سے وابستہ رہے۔ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبے میاں غلام محمد احمد خان مانیکا نے اپنے سیاسی دور میں پاکستان کے عوام، بالخصوص اہلِ پاکپتن کے لیے بہت سے اہم ترقیاتی اور فلاحی کام کیے۔ ان کے نمایاں منصوبوں میں سب سے اہم پاکپتن میں او پی ایف (OPF) اسکول کا قیام ہے، جو سمندر پار پاکستانیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بجلی کی فراہمی کے متعدد منصوبوں پر کام کیا اور ان علاقوں میں گھر گھر بجلی پہنچانے کے اقدامات کیے جہاں پہلے بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے پورے پاکپتن میں سڑکوں کا جال بچھانے، بنیادی مراکزِ صحت (بیسک ہیلتھ یونٹس) کے قیام اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں، پاکپتن میں بے شمار سرکاری اسکولوں کے قیام کی منظوری بھی دلوائی، تاکہ علاقے کے بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ وفات اور آخری آرام گاہ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا 24 نومبر 2011ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال پر اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں واقع میاں خاور فرید مانیکا کی رہائش گاہ پر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں پیر غنی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ سیاسی وراثت اور تسلسل میاں غلام محمد احمد خان مانیکا نے اپنی زندگی کی آخری سیاسی سرگرمیاں اور سیاسی ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے میاں احمد رضا خان مانیکا کے سپرد کر دیں، جو اس وقت رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔ میاں احمد رضا خان مانیکا اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ اہلِ پاکپتن سے محبت اور خلوص کا رشتہ رکھتے ہیں اور اپنے والد کے سیاسی طور طریقوں اور عوامی خدمت کے جذبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میاں غلام محمد احمد خان مانیکا کی سیاسی زندگی، عوامی خدمات اور پاکپتن کی ترقی کے لیے ان کی کاوشیں ان کی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی سیاسی وراثت آج بھی ان کے خاندان کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔ #foryou #fyp #viral #viralvideo #viraltiktok @ساڈا پنجاب @S A L M A N M U S L A 🖤 @Gazar Vlogs

About