@ahchu166:

Ahchu
Ahchu
Open In TikTok:
Region: LK
Monday 02 November 2026 02:06:46 GMT
4194
378
11
50

Music

Download

Comments

user2260068587140
maha12070 :
nice song 👌
2026-11-02 11:46:38
1
ambija6
ambija :
😭😭🥰🥰
2026-11-02 13:05:12
1
valli.amma.valli
Valli amma Valli :
😭😭😭
2026-11-02 15:58:03
0
santhiya2565
santhiya :
😭😭
2026-11-02 12:21:35
0
zara007..0
zara :
😭😭😭
2026-11-02 11:15:59
0
suman.yogarasa
Suman Yogarasa :
😂😂😂
2026-11-02 05:31:00
1
rani.ranidelo
💗Priya🌹 :
[Gesture OK][Gesture OK][Gesture OK]
2026-11-02 11:55:13
1
To see more videos from user @ahchu166, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تاریخ پڑھو، قوموں کے عروج و زوال کو سمجھو، اُن لوگوں کے بارے میں جانو جنہوں نے اپنی عقل سے دنیا کا رخ بدلا، ایجادات کا جائزہ لو، جنگوں کی حکمتِ عملی پڑھو، تہذیبوں کی تعمیر اور بربادی کے اسباب سمجھو—کیونکہ جس ذہن کو علم کی وسعت نہیں ملتی، اُس کی نظر میں ہر چمکتی ہوئی چیز کامیابی اور ہر مشہور شخص باصلاحیت نظر آنے لگتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ ہے کہ ہم نے کردار سے زیادہ شہرت، علم سے زیادہ تفریح اور صلاحیت سے زیادہ نمائش کو اہم بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو شخص معاشرے کے لیے کچھ تخلیق کرتا ہے، وہ اکثر گمنام رہتا ہے، جبکہ جو صرف لوگوں کی خواہشات اور کمزوریوں کو بیچنا جانتا ہے، وہ راتوں رات “آئیڈیل” بن جاتا ہے۔ ایک موجد برسوں تنہائی میں محنت کرتا ہے، ناکامیاں برداشت کرتا ہے، سینکڑوں بار کوشش کرتا ہے، تب جا کر کوئی ایسی چیز بناتا ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگی آسان کر دے۔ دوسری طرف کوئی شخص چند لمحوں کا تماشا دکھا کر لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے، مسئلہ تماشا کرنے والے سے زیادہ اُس معاشرے کا ہے جو دونوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے لگتا ہے۔ ہر چیز جو مشہور ہو، ضروری نہیں کہ قابلِ تقلید بھی ہو، ہر وہ شخص جو لوگوں کو متوجہ کر لے، ضروری نہیں کہ وہ معاشرے کے لیے قابلِ قدر بھی ہو۔ اصل صلاحیت وہ ہے جو انسان کے شعور میں اضافہ کرے، کوئی مسئلہ حل کرے، کچھ تخلیق کرے یا آنے والی نسلوں کے لیے راستہ آسان بنائے۔ اس لیے اپنی نظر کا معیار بلند کرو، کتابوں، تاریخ، سائنس، حکمت اور حقیقی کرداروں سے تعلق پیدا کرو۔ کیونکہ جس انسان کی سوچ بلند ہو جاتی ہے، وہ پھر ہر شور کو موسیقی، ہر شہرت کو عظمت اور ہر تماشے کو ٹیلنٹ نہیں سمجھتا۔ قومیں اُس وقت کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں جب اُن کے نوجوان علم پیدا کرنے والوں کو بھول کر صرف تماشا کرنے والوں کو اپنا معیار بنا لیتے ہیں۔ 🚩
تاریخ پڑھو، قوموں کے عروج و زوال کو سمجھو، اُن لوگوں کے بارے میں جانو جنہوں نے اپنی عقل سے دنیا کا رخ بدلا، ایجادات کا جائزہ لو، جنگوں کی حکمتِ عملی پڑھو، تہذیبوں کی تعمیر اور بربادی کے اسباب سمجھو—کیونکہ جس ذہن کو علم کی وسعت نہیں ملتی، اُس کی نظر میں ہر چمکتی ہوئی چیز کامیابی اور ہر مشہور شخص باصلاحیت نظر آنے لگتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ ہے کہ ہم نے کردار سے زیادہ شہرت، علم سے زیادہ تفریح اور صلاحیت سے زیادہ نمائش کو اہم بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو شخص معاشرے کے لیے کچھ تخلیق کرتا ہے، وہ اکثر گمنام رہتا ہے، جبکہ جو صرف لوگوں کی خواہشات اور کمزوریوں کو بیچنا جانتا ہے، وہ راتوں رات “آئیڈیل” بن جاتا ہے۔ ایک موجد برسوں تنہائی میں محنت کرتا ہے، ناکامیاں برداشت کرتا ہے، سینکڑوں بار کوشش کرتا ہے، تب جا کر کوئی ایسی چیز بناتا ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگی آسان کر دے۔ دوسری طرف کوئی شخص چند لمحوں کا تماشا دکھا کر لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے، مسئلہ تماشا کرنے والے سے زیادہ اُس معاشرے کا ہے جو دونوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے لگتا ہے۔ ہر چیز جو مشہور ہو، ضروری نہیں کہ قابلِ تقلید بھی ہو، ہر وہ شخص جو لوگوں کو متوجہ کر لے، ضروری نہیں کہ وہ معاشرے کے لیے قابلِ قدر بھی ہو۔ اصل صلاحیت وہ ہے جو انسان کے شعور میں اضافہ کرے، کوئی مسئلہ حل کرے، کچھ تخلیق کرے یا آنے والی نسلوں کے لیے راستہ آسان بنائے۔ اس لیے اپنی نظر کا معیار بلند کرو، کتابوں، تاریخ، سائنس، حکمت اور حقیقی کرداروں سے تعلق پیدا کرو۔ کیونکہ جس انسان کی سوچ بلند ہو جاتی ہے، وہ پھر ہر شور کو موسیقی، ہر شہرت کو عظمت اور ہر تماشے کو ٹیلنٹ نہیں سمجھتا۔ قومیں اُس وقت کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں جب اُن کے نوجوان علم پیدا کرنے والوں کو بھول کر صرف تماشا کرنے والوں کو اپنا معیار بنا لیتے ہیں۔ 🚩

About