انجینئر صاحب ماشاءاللہ سلامت رہو اپ اپ نے صحیح فرمایا حق کی بات کی اپ نے
2026-11-02 15:02:23
30
syed sarfraz hussain kazmi :
Muhammad ali mirza muje tum sirf is bat k lye hi ache lagte ho k ahl e bait lye bolte ho❤️
2026-11-03 07:36:44
5
DR -Hadia :
Allaha Tala apko hamesha khush rakhy ameen
2026-11-02 11:15:11
16
Ali Shan Afzal :
صحیح بخاری، حدیث نمبر 2704 کا مکمل ترجمہ:
"حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما (خلافت کے بعد) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پہاڑوں جیسے بڑے بڑے لشکر لے کر بڑھے۔ (یہ دیکھ کر) عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے (جو حضرت معاویہ کے ساتھ تھے) کہا: 'میں ایسے لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مخالفین کو قتل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔'
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے—جو ان دونوں اصحاب میں سب سے بہتر سوچ رکھنے والے ثابت ہوئے—عمرو بن عاص سے فرمایا: 'اے عمرو! اگر یہ لوگ ان کو اور وہ لوگ ان کو قتل کر دیں، تو مسلمانوں کے امور (حکومت و دیکھ بھال) کے لیے میرے پاس کون بچے گا؟ ان کی عورتوں اور بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟'
چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو شخصوں یعنی عبدالرحمن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور فرمایا: 'تم دونوں اس مرد (حسن بن علی) کے پاس جاؤ، ان کے سامنے صلح کی پیشکش رکھو، ان سے گفتگو کرو اور ان سے (امت کے امن کی) اپیل کرو۔'
چنانچہ وہ دونوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان سے بات چیت کی اور صلح کی درخواست کی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: 'ہم بنو عبدالمطلب ہیں، ہم نے مال و دولت دنیا پا لی ہے (لیکن اس وقت) امت خونریزی اور فتنوں میں مبتلا ہو چکی ہے (اور صرف مالی فوائد یا دلجوئی ہی اس لشکر کو پرسکون کر سکتی ہے)۔'
ان دونوں نمائندوں نے کہا: 'حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو یہ یہ مال اور شرائط پیش کرتے ہیں، وہ آپ سے صلح کی درخواست کرتے اور اللہ کا واسطہ دیتے ہیں۔' حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: 'جو کچھ تم کہہ رہے ہو، اس کا ضامن (ذمہ دار) کون بنے گا؟' انہوں نے کہا: 'ہم اس کے ضامن ہیں۔' چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جو کچھ بھی مانگا، انہوں نے کہا: 'ہم آپ کے لیے اس کے ضامن ہیں۔' اس کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔
(راویِ حدیث) حسن بصری فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ: 'میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک مرتبہ حسن کی طرف، اور فرما رہے تھے: بے شک میرا یہ بیٹا سردار (سید) ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔'"
2026-11-02 19:04:44
5
Mahr Ali Noul ❤️🔥🥷 :
Great Engineer Sahb😘❤️
2026-11-02 10:16:23
6
Syed Israr Hussain N :
sada jeoooooooo molana ggggggg
2026-11-02 14:33:35
3
khadargani :
ameena Yaa Rab Haq Ali Moula
2026-11-02 05:03:38
6
💪tabish ❤️ :
Salam ya imam mola imam Hassan as
2026-11-02 13:40:36
5
Easa Bangash :
🥰🥰🥰♥️♥️♥️♥️♥️
2026-11-02 15:38:44
2
javed iqbal :
engineer bhai sada geo pye salamat rho
2026-11-02 15:42:13
4
Muhammad Siddiq Muhammad siddiq :
Razi Allah q asay bnday k lye
2026-11-02 15:25:16
4
Muhammad Shakir :
استاد تسی گریٹ ہو
2026-11-03 03:45:04
1
malikqaisar816malik123235malik :
Geo Mirza
2026-11-02 08:35:12
4
بھٹی کہتے ہیں 😎 :
علی حق
2026-11-02 18:11:30
1
Abdul Waheed :
jeo ustad mohtram🥰🥰🥰
2026-11-02 16:56:11
1
ملک جلیل🦅 :
جیو جیو
2026-11-02 17:13:02
1
Usman Paracha :
kiya bat hai yarrr kamal ho yarrr ap ♥️♥️♥️♥️
2026-11-02 13:37:39
2
🔝༎ Khan༎ຶ🆙 :
2026-11-02 15:43:55
2
proactive school system 🏫 :
اپ رضی اللہ تعالی عنہ بھی کہتے ہیں رضی اللہ کا مطلب کیا ہے یہ تو بتا دیں رضی اللہ تعالی عنہ مطلب اللہ جسے راضی ہو جاتا ہے راضی اللہ تو اپ پھر رضی اللہ تعالی عنہ بھی کہتے ہیں وہ راضی بھی نہیں ہوتے ہیں